حدیث نمبر: 277
وَعَن زِيَاد بن لبيد قَالَ ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا فَقَالَ: «ذَاكَ عِنْدَ أَوَانِ ذَهَابِ الْعِلْمِ» . قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ يَذْهَبُ الْعِلْمُ وَنحن نَقْرَأ الْقُرْآن ونقرئه أبناءنا ويقرؤه ابناؤنا أَبْنَاءَهُم إِلَى يَوْم الْقِيَامَة قَالَ: «ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ زِيَادُ إِنْ كُنْتُ لَأُرَاكَ مِنْ أَفْقَهِ رَجُلٍ بِالْمَدِينَةِ أَوَلَيْسَ هَذِهِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى يَقْرَءُونَ التَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ لَا يَعْمَلُونَ بِشَيْءٍ مِمَّا فِيهِمَا» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَهْ وَرَوَى التِّرْمِذِيُّ عَنهُ نَحوه
الشیخ عبدالستار الحماد
سیدنا زیاد بن لبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی (خوفناک) چیز کا ذکر کیا تو فرمایا: ’’یہ علم کے رخصت ہو جانے کے وقت ہو گی۔ ‘‘ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! علم کیسے رخصت ہو جائے گا، جبکہ ہم قرآن پڑھتے ہیں، اور ہم اسے اپنی اولاد کو پڑھا رہے ہیں، اور ہماری اولاد اپنی اولاد کو پڑھائے گی اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’زیاد! تیری ماں تمہیں گم پائے، میں تو تمہیں مدینہ کا بڑا فقیہ شخص سمجھتا تھا، کیا یہ یہود و نصاری تورات و انجیل نہیں پڑھتے، لیکن وہ ان کے مطابق عمل نہیں کرتے۔ ‘‘ اس حدیث کو احمد، ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے بھی اسی طرح سے بیان کیا ہے۔
حدیث نمبر: 278
وَكَذَا الدَّارمِيّ عَن أبي أُمَامَة
الشیخ عبدالستار الحماد
اور دارمی نے بھی ابوامامہ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 279
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَعَلَّمُوا الْعِلْمَ وَعَلِّمُوهُ النَّاسَ تَعَلَّمُوا الْفَرَائِضَ وَعَلِّمُوهَا النَّاسَ تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ وَعَلِّمُوهُ النَّاسَ فَإِنِّي امْرُؤٌ مَقْبُوضٌ وَالْعِلْمُ سَيُقْبَضُ وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ حَتَّى يَخْتَلِفَ اثْنَانِ فِي -[92]- فَرِيضَةٍ لَا يَجِدَانِ أَحَدًا يَفْصِلُ بَيْنَهُمَا» . رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ وَالدَّارَقُطْنِيّ
الشیخ عبدالستار الحماد
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: ’’علم سیکھو اور اسے دوسروں کو سکھاؤ، فرائض (علم میراث) سیکھو اور اسے لوگوں کو سکھاؤ، قرآن سیکھو اور اسے لوگوں کو سکھاو، کیونکہ میری روح قبض کر لی جائے گی، اور (میرے بعد) علم بھی اٹھا لیا جائے گا، فتنے ظاہر ہو جائیں گے، حتیٰ کہ دو آدمی کسی فریضہ میں اختلاف کریں گے لیکن وہ اپنے درمیان فیصلہ کرنے والا کوئی نہیں پائیں گے۔ ‘‘اس حدیث کو دارمی اور دار قطنی نے روایت کیا ہے۔