حدیث نمبر: 256
وَعَن ابْن عَبَّاس قَالَ: تَدَارُسُ الْعِلْمِ سَاعَةً مِنَ اللَّيْلِ خَيْرٌ من إحيائها. رَوَاهُ الدَّارمِيّ
الشیخ عبدالستار الحماد
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رات کی ایک گھڑی کی درس و تدریس رات بھر عبادت کرنے سے بہتر ہے۔ اس حدیث کو دارمی نے روایت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 257
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِمَجْلِسَيْنِ فِي مَسْجِدِهِ فَقَالَ: «كِلَاهُمَا عَلَى خَيْرٍ وَأَحَدُهُمَا أَفْضَلُ مِنْ صَاحِبِهِ أَمَّا هَؤُلَاءِ فَيَدْعُونَ اللَّهَ وَيَرْغَبُونَ إِلَيْهِ فَإِنْ شَاءَ أَعْطَاهُمْ وَإِنْ شَاءَ مَنَعَهُمْ. وَأَمَّا هَؤُلَاءِ فَيَتَعَلَّمُونَ الْفِقْهَ أَوِ الْعِلْمَ وَيُعَلِّمُونَ الْجَاهِلَ فَهُمْ -[86]- أَفْضَلُ وَإِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا» ثمَّ جلس فيهم. رَوَاهُ الدَّارمِيّ
الشیخ عبدالستار الحماد
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد نبوی میں دو حلقوں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ’’دونوں خیرو بھلائی پر ہیں، لیکن ان میں ایک دوسرے سے افضل ہے، رہے وہ لوگ جو اللہ سے دعا کر رہے ہیں اور اس کے مشتاق ہیں، پس اگر وہ چاہے تو انہیں عطا فرمائے اور اگر چاہے تو عطا نہ فرمائے، اور رہے وہ لوگ جو فقہ یا علم سیکھ رہے ہیں اور جاہلوں کو تعلیم دے رہے ہیں، تو وہ بہتر ہیں، اور مجھے تو معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔ ‘‘ پھر آپ اس حلقے میں بیٹھ گئے۔ اس حدیث کو دارمی نے روایت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 258
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا حَدُّ الْعِلْمِ الَّذِي إِذَا بَلَغَهُ الرَّجُلُ كَانَ فَقِيهًا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «من حَفِظَ عَلَى أُمَّتِي أَرْبَعِينَ حَدِيثًا فِي أَمْرِ دِينِهَا بَعَثَهُ اللَّهُ فَقِيهًا وَكُنْتُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَة شافعا وشهيدا»
الشیخ عبدالستار الحماد
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ سے دریافت کیا گیا کہ علم کی وہ کیا حد ہے جہاں پہنچ کر انسان فقیہ بن جاتا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’جس شخص نے امور دین کے متعلق چالیس احادیث یاد کیں اور انہیں آگے امت تک پہنچایا تو اللہ اسے فقیہ کی حیثیت سے اٹھائے گا اور روز قیامت میں اس کے حق میں شفاعت کروں گا اور گواہی دوں گا۔ ‘‘ اس حدیث کو بیہقی نے روایت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 259
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ تَدْرُونَ مَنْ أَجْوَدُ جُودًا؟» قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: «اللَّهُ تَعَالَى أَجْوَدُ جُودًا ثُمَّ أَنَا أَجْوَدُ بَنِي آدَمَ وَأَجْوَدُهُمْ مِنْ بَعْدِي رَجُلٌ عَلِمَ عِلْمًا فَنَشَرَهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَمِيرًا وَحده أَو قَالَ أمة وَحده»
الشیخ عبدالستار الحماد
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا تم جانتے ہو سب سے بڑا سخی کون ہے؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا، اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ سب سے بڑا سخی ہے، پھر اولاد آدم میں سب سے بڑا سخی میں ہوں، اور میرے بعد وہ شخص سخی ہے جس نے علم حاصل کیا اور اسے فروغ دیا، روز قیامت وہ اس حیثیت سے آئے گا کہ وہ اکیلا ہی امیر ہو گا۔ ‘‘ یا فرمایا: ’’اکیلا ہی ایک امت ہو گا۔ ‘‘ اس حدیث کو بیہقی نے روایت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 260
وَعَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْهُومَانِ لَا يَشْبَعَانِ: مَنْهُومٌ فِي الْعِلْمِ لَا يَشْبَعُ مِنْهُ وَمَنْهُومٌ فِي الدُّنْيَا لَا يَشْبَعُ مِنْهَا «. رَوَى الْبَيْهَقِيُّ الْأَحَادِيثَ الثَّلَاثَةَ فِي» شُعَبِ الْإِيمَانِ " وَقَالَ: قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ فِي حَدِيثِ أَبِي الدَّرْدَاءِ: هَذَا مَتْنٌ مَشْهُورٌ فِيمَا بَين النَّاس وَلَيْسَ لَهُ إِسْنَاد صَحِيح
الشیخ عبدالستار الحماد
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’دو قسم کے بھوکے حریص لوگ کبھی سیر نہیں ہوتے، علم کا حریص شخص کبھی علم سے سیر نہیں ہوتا اور دنیا کا حریص کبھی دنیا سے سیر نہیں ہوتا۔ ‘‘ بیہقی نے یہ تینوں احادیث شعب الایمان میں بیان کی ہیں۔ اور امام احمد نے ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث کے بارے میں فرمایا: اس حدیث کا متن تو لوگوں میں مشہور ہے، لیکن اس کی اسناد صحیح نہیں۔
حدیث نمبر: 261
عَن عَوْنٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ: مَنْهُومَانِ لَا يَشْبَعَانِ صَاحِبُ الْعِلْمِ وَصَاحِبُ الدُّنْيَا وَلَا يَسْتَوِيَانِ أَمَّا صَاحِبُ الْعِلْمِ فَيَزْدَادُ رِضًى لِلرَّحْمَنِ وَأَمَّا صَاحِبُ الدُّنْيَا فَيَتَمَادَى فِي الطُّغْيَانِ. ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ (كَلَّا إِنَّ الْإِنْسَانَ لَيَطْغَى أَنْ رَآهُ اسْتَغْنَى) قَالَ وَقَالَ الْآخَرُ (إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عباده الْعلمَاء. رَوَاهُ الدَّارمِيّ
الشیخ عبدالستار الحماد
عون رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’دو بھوکے حریص لوگ سیر نہیں ہوتے صاحب علم اور صاحب دنیا، اور یہ دونوں برابر بھی نہیں ہو سکتے، رہا صاحب علم تو وہ رحمان کی رضا مندی میں بڑھتا چلا جاتا ہے، اور رہا صاحب دنیا تو وہ سرکشی میں بڑھتا چلا جاتا ہے۔ پھر عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ’’ہاں بلاشبہ انسان سرکش ہو جاتا ہے، جب وہ اپنے آپ کو بے نیاز سمجھتا ہے۔ ‘‘ راوی بیان کرتے ہیں، انہوں نے دوسرے کے لیے یہ آیت تلاوت فرمائی: ’’بات صرف یہ ہے کہ اللہ کے بندوں میں سے علما ہی اس سے ڈرتے ہیں۔ ‘‘ اس حدیث کو دارمی نے روایت کیا ہے۔