حدیث نمبر: 244
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَعَلَّمُوا الْفَرَائِضَ وَالْقُرْآنَ وَعَلِّمُوا النَّاسَ فَإِنِّي مَقْبُوضٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
الشیخ عبدالستار الحماد
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’علم میراث اور قرآن کی تعلیم حاصل کرو اور لوگوں کو سکھاؤ، کیونکہ عنقریب میری روح قبض کر لی جائے گی: ‘‘اس حدیث کو ترمذی نے روایت کیا۔
حدیث نمبر: 245
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَخَصَ بِبَصَرِهِ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ قَالَ: «هَذَا أَوَانٌ يُخْتَلَسُ فِيهِ الْعِلْمُ مِنَ النَّاسِ حَتَّى لَا يَقْدِرُوا مِنْهُ على شَيْء» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
الشیخ عبدالستار الحماد
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، تو آپ نے آسمان کی طرف نظر اٹھا کر فرمایا: ’’یہ وہ وقت ہے جس میں لوگوں سے علم سلب کر لیا جائے گا حتیٰ کہ وہ اس سے کسی چیز پر بھی قدرت نہیں رکھیں گے۔ ‘‘اس حدیث کو ترمذی نے روایت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 246
وَعَن أبي هُرَيْرَة رِوَايَةً: «يُوشِكُ أَنْ يَضْرِبَ النَّاسُ أَكْبَادَ الْإِبِلِ يَطْلُبُونَ الْعِلْمَ فَلَا يَجِدُونَ أَحَدًا أَعْلَمَ مِنْ عَالم الْمَدِينَة» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ فِي جَامِعِهِ. قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ: إِنَّهُ مَالِكُ بْنُ أنس وَمثله عَن عبد الرَّزَّاق قَالَ اسحق بْنُ مُوسَى: وَسَمِعْتُ ابْنَ عُيَيْنَةَ أَنَّهُ قَالَ: هُوَ الْعُمَرِيُّ الزَّاهِدُ وَاسْمُهُ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عبد الله
الشیخ عبدالستار الحماد
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عنقریب لوگ طلب علم میں اونٹوں پر سفر کریں گے، لیکن وہ عالم مدینہ سے زیادہ عالم کسی کو نہیں پائیں گے۔ اور ان کی جامع میں ہے کہ ابن عیینہ ؒ نے فرمایا: اس سے مراد مالک بن انس ؒ ہیں۔ انہی کے مثل عبدالرزاق سے مروی ہے، اسحاق بن موسی نے بیان کیا، میں نے ابن عیینہ سے سنا، تو انہوں نے کہا: اس سے مراد عمری زاہد ہے اور ان کا نام عبدالعزیز بن عبداللہ ہے۔
حدیث نمبر: 247
وَعَنْهُ فِيمَا أَعْلَمُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَبْعَثُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى رَأْسِ كُلِّ مِائَةٍ سَنَةٍ مَنْ يُجَدِّدُ لَهَا دِينَهَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
الشیخ عبدالستار الحماد
راوی حدیث ابوعلقمہ بیان کرتے ہیں کہ میری معلومات کے مطابق سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مرفوع روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ عزوجل اس امت کے لیے ہر سو سال کے آخر پر کسی ایسے شخص کو بھیجے گا جو اس کے لیے اس کے دین کی تجدید کرے گا۔ ‘‘اس حدیث کو ابوداؤد نے روایت کیا۔
حدیث نمبر: 248
وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعُذْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «يَحْمِلُ هَذَا الْعِلْمَ مِنْ كُلِّ خَلَفٍ عُدُولُهُ يَنْفُونَ عَنْهُ تَحْرِيفَ الْغَالِينَ وَانْتِحَالَ الْمُبْطِلِينَ وَتَأْوِيلَ الْجَاهِلين» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ
الشیخ عبدالستار الحماد
ابراہیم بن عبدالرحمٰن عذری رحمہ اللہ (مرسل روایت) بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’اس علم کو بعد میں آنے والے ہر طبقہ کے صاحب تقویٰ لوگ حاصل کریں گے، وہ اس (علم) سے غلو کرنے والوں کی تحریف، جھوٹے لوگوں کی جعل سازی اور جہلا کی تاویل کی نفی کریں گے۔ ‘‘ بیہقی نے المدخل میں مرسل روایت کیا ہے، ہم جابر رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث: «فانما شفاء العي السوال» کو باب التیمم میں ان شاء اللہ بیان کریں گے۔