حدیث نمبر: 239
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْعِلْمُ ثَلَاثَةٌ: آيَةٌ مُحْكَمَةٌ أَوْ سُنَّةٌ قَائِمَةٌ أَوْ فَرِيضَةٌ عَادِلَةٌ وَمَا كَانَ سِوَى ذَلِكَ فَهُوَ فضل ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه
الشیخ عبدالستار الحماد
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’علم تین ہیں: آیت محکمہ یا سنت ثابتہ یا فریضہ عادلہ (ہر وہ فرض جس کی فرضیت پر مسلمانوں کا اجماع ہے) اور جو اس کے سوا ہو وہ افضل ہے۔ ‘‘ اس حدیث کو ابوداؤد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 240
وَعَن عَوْف بن مَالك الْأَشْجَعِيّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَقُصُّ إِلَّا أَمِيرٌ أَوْ مَأْمُورٌ أَو مختال» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
الشیخ عبدالستار الحماد
سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’امیر یا جسے وہ اجازت دے وہی خطاب کرنے کا مجاز ہے یا پھر متکبر شخص وعظ کرتا ہے۔ ‘‘ اس حدیث کو ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 241
وَرَوَاهُ الدَّارِمِيُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ وَفِي رِوَايَته بدل «أَو مختال»
الشیخ عبدالستار الحماد
دارمی نے عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ کی سند سے روایت بیان کی ہے، اس میں «مختال» ’’متکبر‘‘ کے بجائے «مراء» ’’ریاکار‘‘ کا لفظ ہے۔