کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: قرآن کریم کے مفاہیم پر اختلاف اور جھگڑے کی ممانعت
حدیث نمبر: 236
‏‏‏‏وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمِرَاءُ فِي الْقُرْآنِ كُفْرٌ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُد
الشیخ عبدالستار الحماد
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’قرآن کے بارے میں اختلاف و جھگڑا کرنا کفر ہے۔ ‘‘ اس حدیث کو احمد اور ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب العلم / حدیث: 236
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أحمد (2/ 286 ح 7835، 2/ 503 ح 10546) و أبو داود (4603) [و صححه ابن حبان (الموارد: 73) والحاکم (2/ 223) ووافقه الذهبي .]»
حدیث نمبر: 237
‏‏‏‏وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قوما -[80]- يتدارؤون فِي الْقُرْآنِ فَقَالَ: " إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِهَذَا: ضَرَبُوا كِتَابَ اللَّهِ بَعْضَهُ بِبَعْضٍ وَإِنَّمَا نَزَلَ كِتَابُ اللَّهِ يُصَدِّقُ بَعْضُهُ بَعْضًا فَلَا تُكَذِّبُوا بَعْضَهُ بِبَعْضٍ فَمَا عَلِمْتُمْ مِنْهُ فَقُولُوا وَمَا جَهِلْتُمْ فَكِلُوهُ إِلَى عَالِمِهِ ". رَوَاهُ أَحْمد وَابْن مَاجَه
الشیخ عبدالستار الحماد
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کچھ لوگوں کو قرآن کے بارے میں جھگڑا کرتے ہوئے پایا تو فرمایا: ’’تم سے پہلے لوگ بھی اسی وجہ سے ہلاک ہوئے انہوں نے اللہ کی کتاب کے بعض حصوں کا بعض حصوں سے رد کیا، حالانکہ اللہ کی کتاب تو اس لیے نازل ہوئی کہ وہ ایک دوسرے کی تصدیق کرتا ہے، پس تم قرآن کے بعض حصے سے بعض کی تکذیب نہ کرو، اس سے جو تم جان لو تو اسے بیان کرو، اور جس کا تمہیں پتہ نہ چلے اسے اس کے جاننے والے کے سپرد کر دو۔ ‘‘ اس حدیث کو احمد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب العلم / حدیث: 237
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أحمد (2/ 185 ح 6741 فيه الزھري وھو مدلس و عنعن) و ابن ماجه (85) [و صححه البوصيري في زوائد ابن ماجه .]¤قلت: سند ابن ماجه حسن . تقدم (99)»