حدیث نمبر: 228
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَضَّرَ اللَّهُ عَبْدًا سَمِعَ مَقَالَتِي فَحَفِظَهَا وَوَعَاهَا وَأَدَّاهَا فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ غَيْرِ فَقِيهٍ وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ. ثَلَاثٌ لَا يَغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ مُسْلِمٍ إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ وَالنَّصِيحَةُ لِلْمُسْلِمِينَ وَلُزُومُ جَمَاعَتِهِمْ فَإِنَّ دَعْوَتَهُمْ تُحِيطُ مِنْ ورائهم» . رَوَاهُ الشَّافِعِي وَالْبَيْهَقِيّ فِي الْمدْخل
الشیخ عبدالستار الحماد
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ اس شخص کے چہرے کو تروتازہ رکھے جس نے میری حدیث کو سنا، اسے یاد کیا، اس کی حفاظت کی اور پھر اسے آگے بیان کیا، بسا اوقات اہل علم فقیہ نہیں ہوتے، اور بسا اوقات فقیہ اپنے سے زیادہ فقیہ تک بات پہنچا دیتا ہے، تین خصلتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں مسلمان کا دل خیانت نہیں کرتا: عمل خالص اللہ کی رضا کے لیے ہو، مسلمانوں کے لیے خیر خواہی ہو، اور ان کی جماعت کے ساتھ لگے رہنا، کیونکہ ان کی دعوت انہیں سب طرف سے گھیر لے گی (حفاظت کرے گی)۔ ‘‘اس حدیث کو شافعی، بیہقی نے مدخل میں روایت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 229
وَرَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ. إِلَّا أَنَّ التِّرْمِذِيّ وَأَبا دواد لَمْ يَذْكُرَا: «ثَلَاثٌ لَا يَغِلُّ عَلَيْهِنَّ» . إِلَى آخِره
الشیخ عبدالستار الحماد
احمد، ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ اور دارمی نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، البتہ ترمذی اور ابوداؤد نے «ثلاث لا يغل عليهن . . . .» سے آخر تک ذکر نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 230
وَعَن ابْن مَسْعُودٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مِنَّا شَيْئًا فَبَلَّغَهُ كَمَا سَمِعَهُ فَرُبَّ مُبَلَّغٍ أَوْعَى لَهُ مِنْ سَامِعٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ
الشیخ عبدالستار الحماد
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ’’اللہ اس شخص کے چہرے کو تروتازہ رکھے جس نے ہم سے کوئی ایسی چیز سنی، تو اس نے جیسے اسے سنا تھا ویسے ہی اسے آگے پہنچا دیا، کیونکہ بسا اوقات جسے بات پہنچائی جاتی ہے وہ اس کی، اس سننے والے کی نسبت زیادہ حفاظت کرنے والا ہوتا ہے۔ ‘‘اس حدیث کو ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 231
وَرَوَاهُ الدَّارمِيّ عَن أبي الدَّرْدَاء
الشیخ عبدالستار الحماد
دارمی نے اسے ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔