مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: جھگڑا کس قدر بری چیز ہے
حدیث نمبر: 180
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا ضَلَّ قَوْمٌ بَعْدَ هُدًى كَانُوا عَلَيْهِ إِلَّا أُوتُوا الْجَدَلَ» . ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الْآيَةَ: (مَا ضَرَبُوهُ -[64]- لَكَ إِلَّا جدلا بل هم قوم خصمون) ‏‏‏‏رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه ‏‏‏‏ 
الشیخ عبدالستار الحماد
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’جب کوئی قوم ہدایت یافتہ ہونے کے بعد گمراہی اختیار کر لیتی ہے تو باہمی نزاع ان کا شغل بن جاتا ہے۔ ‘‘ پھر رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ’’وہ آپ سے یہ باتیں محض جھگڑا پیدا کرنے کے لیے کرتے ہیں بلکہ یہ لوگ ہیں ہی جھگڑالو۔ ‘‘ اس حدیث کو احمد و ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الإيمان / حدیث: 180
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
حدیث تخریج ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أحمد (5/ 252 ح 22517، 5/ 256 ح 22558) والترمذي (3253 وقال: حسن صحيح .) و ابن ماجه (48) [و صححه الحاکم (2/ 448) ووافقه الذهبي .]»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔