مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: صراط مستقیم
حدیث نمبر: 166
‏‏‏‏وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ خَطَّ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطًّا ثُمَّ -[59]- قَالَ: «هَذَا سَبِيلُ اللَّهِ ثُمَّ خَطَّ خُطُوطًا عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ وَقَالَ هَذِهِ سُبُلٌ عَلَى كُلِّ سَبِيلٍ مِنْهَا شَيْطَانٌ يَدْعُو إِلَيْهِ» ثمَّ قَرَأَ (إِن هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبعُوهُ) ‏‏‏‏الْآيَة. رَوَاهُ أَحْمد وَالنَّسَائِيّ والدارمي ‏‏‏‏ 
الشیخ عبدالستار الحماد
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمارے لیے ایک خط کھینچا، پھر فرمایا: ’’یہ اللہ کی راہ ہے۔ ‘‘ پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے دائیں بائیں کچھ خط کھینچے، اور فرمایا: ’’یہ اور راہیں ہیں، اور ان میں سے ہر راہ پر ایک شیطان ہے جو اس راہ کی طرف بلاتا ہے۔ ‘‘ پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ’’یہ میری سیدھی راہ ہے، پس اس کی اتباع کرو۔ ‘‘اس حدیث کو احمد، نسائی اور دارمی نے روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الإيمان / حدیث: 166
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
حدیث تخریج ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أحمد (1/ 435 ح 4142) والنسائي (في الکبري: 11174، التفسير: 194) والدارمي (67/1، 68ح 208) [و صححه ابن حبان (الموارد: 1741، 1742) والحاکم (2/ 318) و رواه ابن ماجه (11) ]»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔