مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: کافر کے لیے عذاب قبر
حدیث نمبر: 134
‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «يُسَلط عَلَى الْكَافِرِ فِي قَبْرِهِ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ تِنِّينًا تنهشه وتلدغه حَتَّى تقوم السَّاعَة وَلَو أَنَّ تِنِّينًا مِنْهَا نَفَخَ -[49]- فِي الْأَرْضِ مَا أَنْبَتَتْ خَضِرًا» . رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ وَرَوَى التِّرْمِذِيُّ نَحْوَهُ وَقَالَ: «سَبْعُونَ بدل تِسْعَة وَتسْعُونَ»
الشیخ عبدالستار الحماد
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’کافر پر، اس کی قبر میں، ننانوے اژدھا مسلط کر دیے جاتے ہیں، وہ قیام قیامت تک اسے ڈستے رہیں گے، اگر ان میں سے ایک اژدھا زمین پر پھونک مار دے تو زمین کسی قسم کا سبزہ نہ اگائے۔ ‘‘ اس حدیث کو دارمی اور ترمذی نے روایت کیا ہے انہوں نے ننانوے کے بجائے ستر (اژدھا) کا ذکر کیا ہے۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الإيمان / حدیث: 134
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: حسن
حدیث تخریج ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه الدارمي (1/ 331 ح 2818 وسنده حسن) والترمذي (2460 وقال: غريب) و سنده ضعيف. ¤ انظر أنوار الصحيفة (ص 258) و حديث الدارمي يغني عنه . قلت: دراج صدوق و حديثه عن أبي الھيثم حسن لذاته .»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔