حدیث نمبر: 116
عَن نَافِع أَن ابْن عمر جَاءَهُ رجل فَقَالَ إِنَّ فُلَانًا يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ فَقَالَ لَهُ إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّهُ قَدْ أَحْدَثَ فَإِنْ كَانَ قَدْ أَحْدَثَ فَلَا تُقْرِئْهُ مِنِّي السَّلَامَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُول يكون فِي هَذِه الْأمة أَو فِي أمتِي الشَّك مِنْهُ خَسْفٌ أَوْ مَسْخٌ أَوْ قَذْفٌ فِي أَهْلِ الْقَدَرِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ
الشیخ عبدالستار الحماد
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا تو اس نے کہا: فلاں شخص آپ کو سلام کہتا ہے، تو انہوں نے کہا: مجھے پتا چلا ہے کہ اس نے بدعت ایجاد کی ہے، پس اگر تو اس نے بدعت ایجاد کی ہے تو پھر میری طرف سے اسے سلام نہ کہنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ’’میری امت میں یا اس امت میں، زمین میں دھنسنا، صورتیں مسخ ہو جانا یا آسمان سے پتھروں کی بارش ہونا ہو گا۔ ‘‘ اس حدیث کو ترمذی و ابوداؤد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے، ترمذی نے کہا: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدیث نمبر: 117
عَن عَليّ رَضِي الله عَنهُ قَالَ سَأَلت خَدِيجَة النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَلَدَيْنِ مَاتَا لَهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هُمَا فِي النَّارِ قَالَ فَلَمَّا رأى الْكَرَاهِيَة فِي وَجْهِهَا قَالَ لَوْ رَأَيْتِ مَكَانَهُمَا لَأَبْغَضْتِهِمَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَوَلَدِي مِنْكَ قَالَ فِي الْجنَّة قَالَ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمُؤْمِنِينَ وَأَوْلَادَهُمْ فِي الْجَنَّةِ وَإِنَّ الْمُشْرِكِينَ وَأَوْلَادَهُمْ فِي النَّارِ ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُمْ بِإِيمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذرياتهم)
الشیخ عبدالستار الحماد
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، خدیجہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زمانہ جاہلیت میں وفات پانے والے اپنے دو بچوں کے بارے میں دریافت کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’وہ جہنم میں ہیں۔ ‘‘ راوی بیان کرتے ہیں، جب آپ نے ان کے چہرے پر ناگواری کے اثرات دیکھے تو فرمایا: ’’اگر آپ ان دونوں کی جگہ دیکھ لیں تو آپ ان سے بغض رکھیں۔ ‘‘ انہوں نے عرض کیا، اللہ کے رسول! آپ سے جو میری اولاد پیدا ہوئی ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’جنت میں۔ ‘‘ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’مومن اور ان کی اولاد جنت میں، مشرک اور ان کی اولاد جہنم میں۔ ‘‘ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ’’اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد نے ایمان لانے میں ان کی پیروی کی تو ہم ان کی اولاد کو بھی ان کے ساتھ ملا دیں گے۔ ‘‘اس حدیث کو احمد نے روایت کیا ہے۔