مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: تخلیق آدم
حدیث نمبر: 100
‏‏‏‏وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ آدَمَ مِنْ قَبْضَةٍ قَبَضَهَا مِنْ جَمِيعِ الْأَرْضِ فَجَاءَ بَنُو آدَمَ عَلَى قَدْرِ الْأَرْضِ مِنْهُمُ الْأَحْمَرُ وَالْأَبْيَضُ -[37]- وَالْأَسْوَدُ وَبَيْنَ ذَلِكَ وَالسَّهْلُ وَالْحَزْنُ وَالْخَبِيثُ وَالطَّيِّبُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد
الشیخ عبدالستار الحماد
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ’’اللہ نے آدم ؑ کو ایک مٹھی (بھر مٹی) سے جو اس نے ساری سطح زمین سے حاصل کی تھی، پیدا فرمایا۔ آدم ؑ کی اولاد زمین (کی رنگت) کی مناسبت سے پیدا ہوئی، ان میں سے کچھ سرخ ہیں کچھ سفید اور کچھ کالے اور ��چھ سرخ و سفید کے مابین، کچھ نرم مزاج اور کچھ سخت مزاج، کچھ بری عادات والے اور کچھ پاکیزہ صفات والے۔ ‘‘ اس حدیث کو احمد، ترمذی اور ابوداود نے روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الإيمان / حدیث: 100
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
حدیث تخریج ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه أحمد (4/ 400 ح 19811) والترمذي (2955 وقال: ھذا حديث حسن صحيح) وأبوداود (4693) [و صححه ابن حبان (الموارد: 2083) والحاکم (2/ 261، 262) ووافقه الذهبي .]»
حدیث نمبر: 101
‏‏‏‏وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٌو قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ خَلْقَهُ فِي ظُلْمَةٍ فَأَلْقَى عَلَيْهِمْ مِنْ نُورِهِ فَمَنْ أَصَابَهُ مِنْ ذَلِكَ النُّورِ اهْتَدَى وَمَنْ أَخْطَأَهُ ضَلَّ فَلذَلِك أَقُول: جف الْقلب على علم الله ". رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ
الشیخ عبدالستار الحماد
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ کو فرماتے ہوئے سنا: ’’اللہ نے اپنی مخلوق کو اندھیرے میں پیدا فرمایا، پھر ان پر اپنا نور ڈالا، پس جس کو یہ نور میسر آ گیا وہ ہدایت پا گیا اور جو اس سے محروم رہا وہ گمراہ ہو گیا، پس میں اسی لیے کہتا ہوں، اللہ کے علم پر قلم خشک ہو چکا ہے۔ ‘‘ اس حدیث کو امام احمد اور ترمذی نے روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الإيمان / حدیث: 101
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
حدیث تخریج ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أحمد (2/ 176 ح 6644 ب) والترمذي (2642 وقال: ھذا حديث حسن .) [و صححه ابن حبان (الموارد: 1812) والحاکم (1/ 30) ووافقه الذهبي .]»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔