مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: بچے فطرت پر پیدا ہوتے ہیں
حدیث نمبر: 90
‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنهُ كَانَ يحدث قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ كَمَا تُنْتَجُ الْبَهِيمَةُ بَهِيمَةً جَمْعَاءَ هَلْ تُحِسُّونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ ثُمَّ يَقُول أَبُو هُرَيْرَة رَضِي الله عَنهُ (فطْرَة الله الَّتِي فطر النَّاس عَلَيْهَا) ‏‏‏‏الْآيَة» ‏‏‏‏ 
الشیخ عبدالستار الحماد
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرت (اسلام) پر پیدا کیا جاتا ہے، پس اس کے والدین اسے یہودی بنا دیتے ہیں، یا اسے نصرانی بنا دیتے ہیں یا اسے مجوسی بنا دیتے ہیں، جیسے جانور صحیح سالم جانور کو جنم دیتا ہے، کیا تم اس میں سے کسی کا کان کٹا ہوا محسوس کرتے ہو؟‘‘ پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی: ’’یہ وہ فطرت ہے، جس پر اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے اور اللہ کی اس بنائی ہوئی چیز میں کوئی تبدیلی نہ کرو، یہی درست دین ہے۔ ‘‘ اس حدیث کو بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الإيمان / حدیث: 90
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: متفق عليه , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
حدیث تخریج ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1358) و مسلم (22 / 2658)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔