مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: تخلیق الہیٰ کے بارے میں شیطانی وسوسہ
حدیث نمبر: 76
‏‏‏‏عَن أنس بن مَالك يَقُولَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَنْ يَبْرَحَ النَّاسُ يَتَسَاءَلُونَ حَتَّى يَقُولُوا هَذَا الله خَالق كل شَيْء فَمن خلق الله» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ. وَلِمُسْلِمٍ: " قَالَ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجل: إِن أمتك لَا يزالون يَقُولُونَ: مَا كَذَا؟ مَا كَذَا؟ حَتَّى يَقُولُوا: هَذَا اللَّهُ خَلَقَ الْخَلْقَ فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ عَزَّ وَجل؟ "
الشیخ عبدالستار الحماد
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’لوگ ایک دوسرے سے سوال کرتے رہیں گے حتیٰ کہ وہ کہیں گے، ان سب چیزوں کو اللہ نے پیدا فرمایا، تو پھر اللہ عزوجل کو کس نے پیدا کیا؟‘‘ اسے بخاری نے روایت کیا۔ متفق علیہ، رواہ البخاری (7296) و مسلم۔ اور مسلم کی روایت میں ہے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’اللہ عزوجل نے فرمایا: آپ کی امت کے لوگ اس طرح کہتے رہیں گے، یہ کیا؟ اسے کیوں پیدا کیا ہے؟ حتیٰ کہ وہ کہیں گے: اس مخلوق کو تو اللہ نے پیدا فرمایا تو پھر اللہ عزوجل کو کس نے پیدا کیا ہے: ‘‘
اس حدیث کو بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الإيمان / حدیث: 76
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
حدیث تخریج ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (7296) و مسلم (217 / 136)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔