مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: ایمان کی بنیاد
حدیث نمبر: 59
‏‏‏‏وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «ثَلَاث من أَصْلِ الْإِيمَانِ الْكَفُّ عَمَّنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا الله وَلَا نكفره بذنب وَلَا نخرجهُ من الْإِسْلَام بِعَمَل -[25]- وَالْجِهَادُ مَاضٍ مُنْذُ بَعَثَنِي اللَّهُ إِلَى أَنْ يُقَاتل آخر أمتِي الدَّجَّالَ لَا يُبْطِلُهُ جَوْرُ جَائِرٍ وَلَا عَدْلُ عَادل وَالْإِيمَان بالأقدار» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
الشیخ عبدالستار الحماد
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’تین (خصلتیں) ایمان کی اصل بنیاد ہیں، (لا الہ الا اللہ) ’’اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ ‘‘ کا اقرار کرنے والے شخص کے درپے ہونے سے رک جانا، کسی گناہ یا کسی اور خلاف شرع عمل کی وجہ سے کسی کو اسلام سے خارج مت کرو، جہاد جاری ہے، جب سے اللہ نے مجھے مبعوث فرمایا ہے، اور یہ اس وقت تک جاری رہے گا جب اس امت کا آخری شخص دجال سے قتال کرے گا، کسی ظالم کا ظلم اسے روک سکے گا نہ کسی عادل کا عدل، اور تقدیر پر ایمان رکھنا۔ ‘‘  اس حدیث کو ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الإيمان / حدیث: 59
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف
حدیث تخریج ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (2532) ¤ ٭ فيه يزيد بن أبي نشبة وھو مجھول .»
حدیث نمبر: 60
‏‏‏‏وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا زَنَى الْعَبْدُ خَرَجَ مِنْهُ الْإِيمَانُ فَكَانَ فَوْقَ رَأْسِهِ كَالظُّلَّةِ فَإِذا خرج من ذَلِك الْعَمَل عَاد إِلَيْهِ الايمان» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد
الشیخ عبدالستار الحماد
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’جب بندہ زنا کرتا ہے تو ایمان اس سے نکل کر چھتری کی طرح اس کے سر پر ہو جاتا ہے، جب وہ اس عمل سے رجوع کر لیتا ہے تو ایمان بھی اس کی طرف پلٹ آتا ہے۔ ‘‘ اس حدیث کو ابوداؤد و ترمذی نے روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الإيمان / حدیث: 60
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: لم تتم دراسته , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
حدیث تخریج ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه الترمذي (معلقًا بعد ح 2625) و أبو داود (4690) [و صححه الحاکم علٰي شرط الشيخين 22/1 ووافقه الذهبي .]»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔