مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: برباد کرنے والے سات گناہ
حدیث نمبر: 52
‏‏‏‏وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوبِقَاتِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا هُنَّ قَالَ الشِّرْكُ بِاللَّهِ وَالسِّحْرُ وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ -[23]- إِلَّا بِالْحَقِّ وَأَكْلُ الرِّبَا وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ وَالتَّوَلِّي يَوْمَ الزَّحْفِ وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ الْغَافِلَاتِ»
الشیخ عبدالستار الحماد
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’سات مہلک چیزوں سے اجتناب کرو۔ ‘‘ انہوں نے عرض کیا، اللہ کے رسول! وہ کیا ہیں؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو کرنا، جس کے قتل کرنے کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے، اسے ناحق قتل کرنا، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، معرکہ کے دن میدان جہاد سے پیٹھ پھیر کر فرار ہونا اور پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا۔ ‘‘ اس حدیث کو بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الإيمان / حدیث: 52
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: متفق عليه , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
حدیث تخریج ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (2766) و مسلم (89/ 145)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔