مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: چند بڑے بڑے گناہ
حدیث نمبر: 49
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الذَّنْبِ أَكْبَرُ عِنْدَ اللَّهِ قَالَ أَنْ تَدْعُوَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ قَالَ ثُمَّ أَيٌّ قَالَ ثمَّ أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ خَشْيَةَ أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ قَالَ ثمَّ أَي قَالَ ثمَّ أَن تُزَانِي بحليلة جَارك فَأنْزل الله عز وَجل تَصْدِيقَهَا (وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يزنون وَمن يفعل ذَلِك يلق أثاما) ‏‏‏‏الْآيَة ‏‏‏‏  . مُتَّفق عَلَيْهِ
الشیخ عبدالستار الحماد
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، کسی آدمی نے عرض کیا، اللہ کے رسول! اللہ کے نزدیک کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’یہ کہ تو اللہ کا شریک بنائے حالانکہ اس نے تمہیں پیدا فرمایا: ‘‘ اس نے کہا: پھر کون سا؟ آپ نے فرمایا: ’’یہ کہ تو اس اندیشے کے پیش نظر اپنے بچے کو قتل کر دے کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گا۔ ‘‘ اس نے عرض کیا: پھر کون سا؟ آپ نے فرمایا: ’’یہ کہ تو اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرے۔ ‘‘ اللہ نے اس مسئلہ کی تصدیق میں یہ آیت نازل فرمائی: ’’اور وہ لوگ ہیں جو اللہ کے ساتھ اور معبودوں کو نہیں پکارتے اور جس کے قتل کرنے کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے اسے ناحق قتل نہیں کرتے اور نہ ہی وہ زنا کرتے ہیں۔ ‘‘ اس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الإيمان / حدیث: 49
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: مُتَّفق عَلَيْهِ , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
حدیث تخریج ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6861) و مسلم (86/ 142) واللفظ له .»
حدیث نمبر: 50
‏‏‏‏وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْكَبَائِرُ الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَالْيَمِين الْغمُوس» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
الشیخ عبدالستار الحماد
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’اللہ کے ساتھ شریک بنانا، والدین کی نافرمانی کرنا، قتل نفس اور جھوٹی قسم اٹھانا کبیرہ گناہ ہیں۔ ‘‘ اس حدیث کو بخاری نے روایت کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الإيمان / حدیث: 50
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صَحِيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
حدیث تخریج ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (6675)»
حدیث نمبر: 51
‏‏‏‏وَفِي رِوَايَةِ أَنَسٍ: «وَشَهَادَةُ الزُّورِ» بَدَلُ: «الْيَمِينُ الْغمُوس»
الشیخ عبدالستار الحماد
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی روایت میں جھوٹی قسم کی بجائے جھوٹی گواہی کا ذکر ہے۔ اس حدیث کو بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الإيمان / حدیث: 51
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: متفق عليه , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
حدیث تخریج ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (2653) و مسلم (88/ 144)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔