مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: ایمان کی علامت کیا ہے ؟
حدیث نمبر: 45
‏‏‏‏وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا الْإِيمَانُ قَالَ إِذَا سَرَّتْكَ حَسَنَتُكَ وَسَاءَتْكَ سَيِّئَتُكَ فَأَنْتَ مُؤْمِنٌ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا الْإِثْمُ قَالَ إِذَا حَاكَ فِي نَفْسِكَ شَيْءٌ فَدَعْهُ» . رَوَاهُ أَحْمد
الشیخ عبدالستار الحماد
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کسی آدمی نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دریافت کیا، ایمان کیا ہے؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تیری نیکی تجھے خوش کر دے اور تیری برائی تجھے غمگین کر دے تو، تو مومن ہے۔ ‘‘ اس نے عرض کیا، اللہ کے رسول! تو گناہ کیا ہے؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’جب کوئی چیز تیرے دل میں کھٹکے تو اسے چھوڑ دو۔ ‘‘ اس حدیث کو احمد نے روایت کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الإيمان / حدیث: 45
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: لم تتمّ دراسته , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
حدیث تخریج ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أحمد (5/ 251 ح 22519) [وصححه ابن حبان (الموارد: 103) و الحاکم علٰي شرط الشيخين (1/ 14) ووافقه الذهبي .]»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔