کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: (اعمال نیتوں کے ساتھ ہیں)
حدیث نمبر: 1
‏‏‏‏عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا الْأَعْمَال بِالنِّيَّاتِ وَإِنَّمَا لكل امْرِئ مَا نَوَى فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا فَهجرَته إِلَى مَا هَاجر إِلَيْهِ». مُتَّفق عَلَيْهِ
الشیخ عبدالستار الحماد
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ عملوں کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی ہے، پس جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہوئی ہے تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول ہی کے لیے ہے اور جس کی ہجرت حصول دنیا یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے ہوئی ہے تو اس کی ہجرت اسی چیز کی طرف ہوئی ہے جس کے لیے اس نے ہجرت کی ہے ۔ اس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / مقدمة / حدیث: 1
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: مُتَّفق عَلَيْهِ , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
حدیث تخریج ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1، 54، 2529، 3898، 5070، 6689، 6953) ومسلم (1907، الإمارة: 155) ¤ [التعليقات السلفيه واللفظ له الا عنده ”لدنيا“ بدل ”الى دنيا“ وجاء فى بعض نسخ النسائي: ”الى دنيا.‏‏‏‏“]»