مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: اس کا گناہ جس نے بیت توڑی۔
حدیث نمبر: Q7216
وَقَوْلِهِ تَعَالَى: {إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ فَمَنْ نَكَثَ فَإِنَّمَا يَنْكُثُ عَلَى نَفْسِهِ وَمَنْ أَوْفَى بِمَا عَاهَدَ عَلَيْهِ اللَّهَ فَسَيُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا}.
مولانا داود راز
‏‏‏‏ اور اللہ تعالیٰ کا ( سورۃ الفتح میں ) فرمان «إن الذين يبايعونك إنما يبايعون الله يد الله فوق أيديهم فمن نكث فإنما ينكث على نفسه ومن أوفى بما عاهد عليه الله فسيؤتيه أجرا عظيما‏» ” یقیناً جو لوگ آپ سے بیعت کرتے ہیں وہ درحقیقت اللہ سے بیعت کرتے ہیں ۔ اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں کے اوپر ہے ۔ پس جو کوئی اس بیعت کو توڑے گا بلا شک اس کا نقصان اسے ہی پہنچے گا اور جو کوئی اس عہد کو پورا کرے جو اللہ سے اس نے کیا ہے تو اللہ اسے بڑا اجر عطا فرمائے گا ۔ “
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأحكام / حدیث: Q7216
حدیث نمبر: 7216
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، سَمِعْتُ جَابِرًا ، قَالَ : " جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : بَايِعْنِي عَلَى الْإِسْلَامِ ، فَبَايَعَهُ عَلَى الْإِسْلَامِ ، ثُمَّ جَاءَ الْغَدَ مَحْمُومًا ، فَقَالَ : أَقِلْنِي ، فَأَبَى ، فَلَمَّا وَلَّى ، قَالَ : الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ تَنْفِي خَبَثَهَا وَيَنْصَعُ طِيبُهَا " .
مولانا داود راز
´ہم سے ابونعیم ( فضل بن دکین ) نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے محمد بن منکدر نے ، انہوں نے کہا میں نے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہتے تھے` ایک گنوار ( نام نامعلوم ) یا قیس بن ابی حازم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، کہنے لگا : یا رسول اللہ ! اسلام پر مجھ سے بیعت لیجئے ۔ آپ نے اس سے بیعت لے لی ، پھر دوسرے دن بخار میں ہلہلاتا آیا کہنے لگا میری بیعت فسخ کر دیجئیے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کیا ( بیعت فسخ نہیں کی ) جب وہ پیٹھ موڑ کر چلتا ہوا ، تو فرمایا مدینہ کیا ہے ( لوہار کی بھٹی ہے ) پلید اور ناپاک ( میل کچیل ) کو چھانٹ ڈالتا ہے اور کھرا ستھرا مال رکھ لیتا ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأحكام / حدیث: 7216
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔