مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: امام لوگوں سے کن باتوں پر بیعت لے؟
حدیث نمبر: 7199
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُبَادَةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : " بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي الْمَنْشَطِ وَالْمَكْرَهِ .
مولانا داود راز
´ہم سے اسماعیل نے بیان کیا ، کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ بن سعید نے ، انہوں نے کہا کہ مجھ کو عبادہ بن الولید نے خبر دی ، انہیں ان کے والد نے خبر دی ، ان سے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کی سننے اور اطاعت کرنے کی بیعت کی ، خوشی اور ناخوشی دونوں حالتوں میں ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأحكام / حدیث: 7199
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 7200
وَأَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ ، وَأَنْ نَقُومَ أَوْ نَقُولَ بِالْحَقِّ حَيْثُمَا كُنَّا ، لَا نَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ " .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ اور اس شرط پر کہ جو شخص سرداری کے لائق ہو گا ( مثلاً قریش میں سے ہو اور شرع پر قائم ہو ) اس کی سرداری قبول کر لیں گے اس سے جھگڑا نہ کریں اور یہ کہ ہم حق کو لے کر کھڑے ہوں گے یا حق بات کہیں گے جہاں بھی ہوں اور اللہ کے راستے میں ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ کریں گے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأحكام / حدیث: 7200
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 7201
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَدَاةٍ بَارِدَةٍ وَالْمُهَاجِرُونَ ، وَالْأَنْصَارُ يَحْفِرُونَ الْخَنْدَقَ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ إِنَّ الْخَيْرَ خَيْرُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ ، فَأَجَابُوا نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدَا عَلَى الْجِهَادِ مَا بَقِينَا أَبَدَا .
مولانا داود راز
´ہم سے عمر بن علی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے حمید نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سردی میں صبح کے وقت باہر نکلے اور مہاجرین اور انصار خندق کھود رہے تھے ، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اے اللہ ! خیر تو آخرت ہی کی خیر ہے ۔ پس انصار و مہاجرین کی مغفرت کر دے ۔ “ اس کا جواب لوگوں نے دیا کہ ہم وہ ہیں جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد پر بیعت کی ہے ہمیشہ کے لیے جب تک وہ زندہ ہیں ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأحكام / حدیث: 7201
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 7202
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " كُنَّا إِذَا بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ ، يَقُولُ لَنَا : فِيمَا اسْتَطَعْتُمْ " .
مولانا داود راز
´ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ، انہیں عبداللہ بن دینار نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سننے اور اطاعت کرنے کی بیعت کرتے تو آپ ہم سے فرماتے کہ جتنی تمہیں طاقت ہو ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأحكام / حدیث: 7202
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 7203
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ : شَهِدْتُ ابْنَ عُمَرَ حَيْثُ اجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَى عَبْدِ الْمَلِكِ ، قَالَ : " كَتَبَ أني أُقِرُّ بِالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ لِعَبْدِ اللَّهِ عَبْدِ الْمَلِكِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ علَى سُنَّةِ اللَّهِ وَسُنَّةِ رَسُولِهِ مَا اسْتَطَعْتُ ، وَإِنَّ بَنِيَّ قَدْ أَقَرُّوا بِمِثْلِ ذَلِكَ " .
مولانا داود راز
´ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے سفیان نے ، ان سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا کہا کہ` میں اس وقت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھا جب سب لوگ عبدالملک بن مروان سے بیعت کے لیے جمع ہو گئے ۔ بیان کیا کہ انہوں نے عبدالملک کو لکھا کہ ” میں سننے اور اطاعت کرنے کا اقرار کرتا ہوں عبداللہ عبدالملک امیرالمؤمنین کے لیے اللہ کے دین اور اس کے رسول کی سنت کے مطابق جتنی بھی مجھ میں قوت ہو گی اور یہ کہ میرے لڑکے بھی اس کا اقرار کرتے ہیں ۔ “
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأحكام / حدیث: 7203
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 7204
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " بَايَعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ ، فَلَقَّنَنِي فِيمَا اسْتَطَعْتُ ، وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ " .
مولانا داود راز
´ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا ، کہا ہم کو سیار نے خبر دی ، انہیں شعبی نے ، ان سے جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سننے اور اطاعت کرنے کی بیعت کی تو آپ نے مجھے اس کی تلقین کی کہ جتنی مجھ میں طاقت ہو اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے پر بھی بیعت کی ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأحكام / حدیث: 7204
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 7205
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ : " لَمَّا بَايَعَ النَّاسُ عَبْدَ الْمَلِكِ ، كَتَبَ إِلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ عَبْدِ الْمَلِكِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ ، إِنِّي أُقِرُّ بِالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ لِعَبْدِ اللَّهِ عَبْدِ الْمَلِكِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى سُنَّةِ اللَّهِ وَسُنَّةِ رَسُولِهِ فِيمَا اسْتَطَعْتُ ، وَإِنَّ بَنِيَّ قَدْ أَقَرُّوا بِذَلِكَ " .
مولانا داود راز
´ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے سفیان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا مجھ سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا کہا کہ` جب لوگوں نے عبدالملک کی بیعت کی تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے لکھا ” اللہ کے بندے عبدالملک امیرالمؤمنین کے نام ، میں اقرار کرتا ہوں سننے اور اطاعت کرنے کی ۔ اللہ کے بندے عبدالملک امیرالمؤمنین کے لیے اللہ کے دین اور اس کے رسول کی سنت کے مطابق ، جتنی مجھ میں طاقت ہو گی اور میرے بیٹوں نے بھی اس کا اقرار کیا ۔ “
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأحكام / حدیث: 7205
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 7206
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِسَلَمَةَ : " عَلَى أَيِّ شَيْءٍ بَايَعْتُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ ؟ ، قَالَ : عَلَى الْمَوْتِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے حاتم نے بیان کیا ، ان سے یزید نے بیان کیا کہ` میں نے سلمہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا آپ لوگوں نے صلح حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کس بات پر بیعت کی تھی ؟ انہوں نے کہا کہ موت پر ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأحكام / حدیث: 7206
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 7207
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَنَّ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ الرَّهْطَ الَّذِينَ وَلَّاهُمْ عُمَرُ اجْتَمَعُوا ، فَتَشَاوَرُوا ، فَقَالَ لَهُمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : لَسْتُ بِالَّذِي أُنَافِسُكُمْ عَلَى هَذَا الْأَمْرِ ، وَلَكِنَّكُمْ إِنْ شِئْتُمُ اخْتَرْتُ لَكُمْ مِنْكُمْ ، فَجَعَلُوا ذَلِكَ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، فَلَمَّا وَلَّوْا عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَمْرَهُمْ ، فَمَالَ النَّاسُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَتَّى مَا أَرَى أَحَدًا مِنَ النَّاسِ يَتْبَعُ أُولَئِكَ الرَّهْطَ وَلَا يَطَأُ عَقِبَهُ ، وَمَالَ النَّاسُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُشَاوِرُونَهُ تِلْكَ اللَّيَالِي حَتَّى إِذَا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الَّتِي أَصْبَحْنَا مِنْهَا فَبَايَعْنَا عُثْمَانَ ، قَالَ الْمِسْوَرُ : طَرَقَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بَعْدَ هَجْعٍ مِنَ اللَّيْلِ ، فَضَرَبَ الْبَابَ حَتَّى اسْتَيْقَظْتُ ، فَقَالَ : أَرَاكَ نَائِمًا فَوَاللَّهِ مَا اكْتَحَلْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ بِكَبِيرِ نَوْمٍ ، انْطَلِقْ فَادْعُ الزُّبَيْرَ ، وَسَعْدًا ، فَدَعَوْتُهُمَا لَهُ فَشَاوَرَهُمَا ثُمَّ دَعَانِي ، فَقَالَ : ادْعُ لِي عَلِيًّا ، فَدَعَوْتُهُ ، فَنَاجَاهُ حَتَّى ابْهَارَّ اللَّيْلُ ، ثُمَّ قَامَ عَلِيٌّ مِنْ عِنْدِهِ وَهُوَ عَلَى طَمَعٍ ، وَقَدْ كَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَخْشَى مِنْ عَلِيٍّ شَيْئًا ، ثُمّ قَالَ : ادْعُ لِي عُثْمَانَ ، فَدَعَوْتُهُ ، فَنَاجَاهُ حَتَّى فَرَّقَ بَيْنَهُمَا الْمُؤَذِّنُ بِالصُّبْحِ ، فَلَمَّا صَلَّى لِلنَّاسِ الصُّبْحَ ، وَاجْتَمَعَ أُولَئِكَ الرَّهْطُ عِنْدَ الْمِنْبَرِ ، فَأَرْسَلَ إِلَى مَنْ كَانَ حَاضِرًا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَأَرْسل إِلَى أُمَرَاءِ الْأَجْنَادِ ، وَكَانُوا وَافَوْا تِلْكَ الْحَجَّةَ مَعَ عُمَرَ ، فَلَمَّا اجْتَمَعُوا ، تَشَهَّدَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، ثُمّ قَالَ : " أَمَّا بَعْدُ يَا عَلِيُّ ، إِنِّي قَدْ نَظَرْتُ فِي أَمْرِ النَّاسِ فَلَمْ أَرَهُمْ يَعْدِلُونَ بِعُثْمَانَ فَلَا تَجْعَلَنَّ عَلَى نَفْسِكَ سَبِيلًا ، فَقَالَ : أُبَايِعُكَ عَلَى سُنَّةِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَالْخَلِيفَتَيْنِ مِنْ بَعْدِهِ " ، فَبَايَعَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَبَايَعَهُ النَّاسُ الْمُهَاجِرُونَ ، وَالْأَنْصَارُ وَأُمَرَاءُ الْأَجْنَادِ ، وَالْمُسْلِمُونَ .
مولانا داود راز
´ہم سے عبداللہ بن محمد بن اسماء نے بیان کیا ، کہا ہم سے جویریہ بن اسماء نے بیان کیا ، ان سے امام مالک نے ، ان سے زہری نے ، انہیں حمید بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور انہیں مسور بن مخرمہ نے خبر دی کہ` وہ چھ آدمی جن کو عمر رضی اللہ عنہ خلافت کے لیے نامزد کر گئے تھے ( یعنی علی ‘ عثمان ‘ زبیر ‘ طلحہ اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہم کہ ان میں سے کسی ایک کو اتفاق سے خلیفہ بنا لیا جائے ) یہ سب جمع ہوئے اور مشورہ کیا ۔ ان سے عبدالرحمٰن بن عوف نے کہا خلیفہ ہونے کے لیے میں آپ لوگوں سے کوئی مقابلہ نہیں کروں گا ۔ البتہ اگر آپ لوگ چاہیں تو آپ لوگوں کے لیے کوئی خلیفہ آپ ہی میں سے میں چن دوں ۔ چنانچہ سب نے مل کر اس کا اختیار عبدالرحمٰن بن عوف کو دے دیا ۔ جب ان لوگوں نے انتخاب کی ذمہ داری عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دی تو سب لوگ ان کی طرف جھک گئے ۔ جتنے لوگ بھی اس جماعت کے پیچھے چل رہے تھے ، ان میں اب میں نے کسی کو بھی ایسا نہ دیکھا جو عبدالرحمٰن کے پیچھے نہ چل رہا ہو ۔ سب لوگ ان ہی کی طرف مائل ہو گئے اور ان دنوں میں ان سے مشورہ کرتے رہے جب وہ رات آئی جس کی صبح کو ہم نے عثمان رضی اللہ عنہ سے بیعت کی ۔ مسور رضی اللہ عنہ نے بیان کیا تو عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ رات گئے میرے یہاں آئے اور دروازہ کھٹکٹھایا یہاں تک کہ میں بیدار ہو گیا ۔ انہوں نے کہا میرا خیال ہے آپ سو رہے تھے ، اللہ کی قسم میں ان راتوں میں بہت کم سو سکا ہوں ۔ جائیے ! زبیر اور سعد کو بلائیے ۔ میں ان دونوں بزرگوں کو بلا لایا اور انہوں نے ان سے مشورہ کیا ، پھر مجھے بلایا اور کہا کہ میرے لیے علی رضی اللہ عنہ کو بھی بلا دیجئیے ۔ میں نے انہیں بھی بلایا اور انہوں نے ان سے بھی سر گوشی کی ۔ یہاں تک کہ آدھی رات گزر گئی ۔ پھر علی رضی اللہ عنہ ان کے پاس کھڑے ہو گئے اور ان کو اپنے ہی لیے امید تھی ۔ عبدالرحمٰن کے دل میں بھی ان کی طرف سے یہی ڈر تھا ، پھر انہوں نے کہا کہ میرے لیے عثمان رضی اللہ عنہ کو بھی بلا لائیے ۔ میں نے انہیں بھی بلا لایا اور انہوں نے ان سے بھی سرگوشی کی ۔ آخر صبح کے مؤذن نے ان کے درمیان جدائی کی ۔ جب لوگوں نے صبح کی نماز پڑھ لی اور یہ سب لوگ منبر کے پاس جمع ہوئے تو انہوں نے موجود مہاجرین ، انصار اور لشکروں کے قائدین کو بلایا ۔ ان لوگوں نے اس سال حج عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا تھا ۔ جب سب لوگ جمع ہو گئے تو عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے خطبہ پڑھا پھر کہا امابعد ! اے علی ! میں نے لوگوں کے خیالات معلوم کئے اور میں نے دیکھا کہ وہ عثمان کو مقدم سمجھتے ہیں اور ان کے برابر کسی کو نہیں سمجھتے ، اس لیے آپ اپنے دل میں کوئی میل پیدا نہ کریں ۔ پھر کہا میں آپ ( عثمان رضی اللہ عنہ ) سے اللہ کے دین اور اس کے رسول کی سنت اور آپ کے دو خلفاء کے طریق کے مطابق بیعت کرتا ہوں ۔ چنانچہ پہلے ان سے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے بیعت کی ، پھر سب لوگوں نے اور مہاجرین ، انصار اور فوجیوں کے سرداروں اور تمام مسلمانوں نے بیعت کی ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأحكام / حدیث: 7207
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔