مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: جو مسجد میں فیصلہ کرے یا لعان کرائے۔
حدیث نمبر: Q7165
وَلَاعَنَ عُمَرُ عِنْدَ مِنْبَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَضَى شُرَيْحٌ ، وَالشَّعْبِيُّ ، وَيَحْيَى بْنُ يَعْمَرَ فِي الْمَسْجِدِ ، وَقَضَى مَرْوَانُ عَلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ بِالْيَمِينِ عِنْدَ الْمِنْبَرِ وَكَانَ الْحَسَنُ ، وَزُرَارَةُ بْنُ أَوْفَى يَقْضِيَانِ فِي الرَّحَبَةِ خَارِجًا مِنَ الْمَسْجِدِ
مولانا داود راز
‏‏‏‏ اور عمر رضی اللہ عنہ نے مسجد نبوی کے منبر کے پاس لعان کرا دیا اور شریح قاضی اور شعبی اور یحییٰ بن یعمر نے مسجد میں فیصلہ کیا اور مروان نے زید بن ثابت کو مسجد میں منبرنبوی کے پاس قسم کھانے کا حکم دیا اور امام حسن بصری اور زرارہ بن اوفی دونوں مسجد کے باہر ایک دالان میں بیٹھ کر قضاء کا کام کیا کرتے تھے ۔ ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے کہ عین مسجد میں بیٹھ کر وہ فیصلے کرتے تھے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأحكام / حدیث: Q7165
حدیث نمبر: 7165
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : " شَهِدْتُ الْمُتَلَاعِنَيْنِ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً وَفُرِّقَ بَيْنَهُمَا " .
مولانا داود راز
´ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ، ان سے سفیان نے بیان کیا ، ان سے زہری نے بیان کیا ، ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` میں نے دو لعان کرنے والوں کو دیکھا ، میں اس وقت پندرہ سال کا تھا اور ان دونوں کے درمیان جدائی کرا دی گئی تھی ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأحكام / حدیث: 7165
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 7166
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سَهْلٍ أَخِي بَنِي سَاعِدَةَ ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ ؟ ، فَتَلَاعَنَا فِي الْمَسْجِدِ وَأَنَا شَاهِدٌ .
مولانا داود راز
´ہم سے یحییٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ، انہیں ابن جریج نے خبر دی ، انہیں ابن شہاب نے خبر دی ، انہیں بنی ساعدہ کے ایک فرد سہل رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ` قبیلہ انصار کا ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے اگر کوئی مرد اپنی بیوی کے ساتھ دوسرے مرد کو دیکھے ، کیا اسے قتل کر سکتا ہے ؟ پھر دونوں ( میاں بیوی ) میں میری موجودگی میں لعان کرایا گیا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأحكام / حدیث: 7166
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔