کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: یہ بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی دربان نہیں تھا۔
حدیث نمبر: 7154
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ لِامْرَأَةٍ مِنْ أَهْلِهِ : تَعْرِفِينَ فُلَانَةَ ؟ ، قَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ : فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهَا وَهِيَ تَبْكِي عِنْدَ قَبْرٍ ، فَقَالَ : " اتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي ، فَقَالَتْ : إِلَيْكَ عَنِّي ، فَإِنَّكَ خِلْوٌ مِنْ مُصِيبَتِي ، قَالَ : فَجَاوَزَهَا وَمَضَى ، فَمَرَّ بِهَا رَجُلٌ ، فَقَالَ : مَا قَالَ لَكِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، قَالَتْ : مَا عَرَفْتُهُ ، قَالَ : إِنَّهُ لَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَجَاءَتْ إِلَى بَابِهِ فَلَمْ تَجِدْ عَلَيْهِ بَوَّابًا ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَاللَّهِ مَا عَرَفْتُكَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ الصَّبْرَ عِنْدَ أَوَّلِ صَدْمَةٍ " .
مولانا داود راز
´ہم سے اسحاق نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبدالصمد نے خبر دی ، کہا ہم سے شعبہ نے ، کہا ہم سے ثابت البنانی نے بیان کیا ، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ` وہ اپنے گھر کی ایک عورت سے کہہ رہے تھے فلانی کو پہچانتی ہو ؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ۔ بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس سے گزرے اور وہ ایک قبر کے پاس رو رہی تھی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ سے ڈر اور صبر کر ۔ اس عورت نے جواب دیا ۔ آپ میرے پاس سے چلے جاؤ ، میری مصیبت آپ پر نہیں پڑی ہے ۔ بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے ہٹ گئے اور چلے گئے ۔ پھر ایک صاحب ادھر سے گزرے اور ان سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کیا کہا تھا ؟ اس عورت نے کہا کہ میں نے انہیں پہچانا نہیں ۔ ان صاحب نے کہا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے ۔ پھر وہ عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ۔ انہوں نے آپ کے یہاں کوئی دربان نہیں پایا پھر عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں نے آپ کو پہچانا نہیں ( تھا ) ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صبر تو صدمہ کے شروع میں ہی ہوتا ہے ۔