مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: چلتے چلتے راستہ میں کوئی فیصلہ کرنا اور فتویٰ دینا۔
حدیث نمبر: Q7153
وَقَضَى يَحْيَى بْنُ يَعْمَرَ فِي الطَّرِيقِ. وَقَضَى الشَّعْبِيُّ عَلَى بَابُ دَارِهِ.
مولانا داود راز
‏‏‏‏ یحییٰ بن یعمر نے راستہ میں فیصلہ کیا اور شعبی نے اپنے گھر کے دروازے پر فیصلہ کیا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأحكام / حدیث: Q7153
حدیث نمبر: 7153
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " بَيْنَمَا أَنَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَارِجَانِ مِنَ الْمَسْجِدِ ، فَلَقِيَنَا رَجُلٌ عِنْدَ سُدَّةِ الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَتَى السَّاعَةُ ؟ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا أَعْدَدْتَ لَهَا ؟ ، فَكَأَنَّ الرَّجُلَ اسْتَكَانَ ، ثُمَّ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَعْدَدْتُ لَهَا كَبِيرَ صِيَامٍ ، وَلَا صَلَاةٍ ، وَلَا صَدَقَةٍ ، وَلَكِنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، قَالَ : أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ " .
مولانا داود راز
´ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے جریر نے بیان کیا ، ان سے منصور نے ، ان سے سالم بن ابی الجعد نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا کہ` میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد سے نکل رہے تھے کہ ایک شخص مسجد کی چوکھٹ پر آ کر ہم سے ملا اور دریافت کیا : یا رسول اللہ ! قیامت کب ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” تم نے قیامت کے لیے کیا تیاری کی ہے ؟ “ اس پر وہ شخص خاموش سا ہو گیا ، پھر اس نے کہا : یا رسول اللہ ! میں نے بہت زیادہ روزے ، نماز اور صدقہ قیامت کے لیے نہیں تیار کئے ہیں لیکن میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” تم اس کے ساتھ ہو گے جس سے تم محبت رکھتے ہو ۔ “
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأحكام / حدیث: 7153
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔