کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: ہر زمانہ کے بعد دوسرے آنے والے زمانہ کا اس سے بدتر آنا۔
حدیث نمبر: 7068
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ ، قَالَ : أَتَيْنَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، فَشَكَوْنَا إِلَيْهِ مَا نَلْقَى مِنَ الْحَجَّاجِ ، فَقَالَ : "اصْبِرُوا ، فَإِنَّهُ لَا يَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ إِلَّا الَّذِي بَعْدَهُ شَرٌّ مِنْهُ حَتَّى تَلْقَوْا رَبَّكُمْ ، سَمِعْتُهُ مِنْ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا داود راز
´ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے ، ان سے زبیر بن عدی نے بیان کیا کہ ،` ہم انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے حجاج کے طرز عمل کی شکایت کی ، انہوں نے کہا کہ صبر کرو کیونکہ تم پر جو دور بھی آتا ہے تو اس کے بعد آنے والا دور اس سے بھی برا ہو گا یہاں تک کہ تم اپنے رب سے جا ملو ۔ میں نے یہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الفتن / حدیث: 7068
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7069
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ . ح وحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنِي أَخِي ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ ،عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ هِنْدٍ بِنْتِ الْحَارِثِ الْفِرَاسِيَّةِ ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : " اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فَزِعًا ، يَقُولُ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، مَاذَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنَ الْخَزَائِنِ ، وَمَاذَا أُنْزِلَ مِنَ الْفِتَنِ ، مَنْ يُوقِظُ صَوَاحِبَ الْحُجُرَاتِ ، يُرِيدُ أَزْوَاجَهُ لِكَيْ يُصَلِّينَ ، رُبَّ كَاسِيَةٍ فِي الدُّنْيَا عَارِيَةٍ فِي الْآخِرَةِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، انہیں زہری نے ۔ ( دوسری سند امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا ) اور ہم سے اسماعیل نے بیان کیا ، ان سے ان کے بھائی نے بیان کیا ، ان سے سلیمان نے ، ان سے محمد بن عقیق نے ، ان سے ابن شہاب نے ‘ ان سے ہند بنت الحارث الفراسیہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھبرائے ہوئے بیدار ہوئے اور فرمایا اللہ کی ذات پاک ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے کیا کیا خزانے نازل کئے ہیں اور کتنے فتنے اتارے ہیں ان حجرہ والیوں کو کوئی بیدار کیوں نہ کرے آپ کی مراد ازواج مطہرات سے تھی تاکہ یہ نماز پڑھیں ۔ بہت سے دنیا میں کپڑے باریک پہننے والیاں آخرت میں ننگی ہوں گی ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الفتن / حدیث: 7069
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة