کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا ”میرے بعد تم بعض کام دیکھو گے جو تم کو برے لگیں گے“۔
حدیث نمبر: Q7052
وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ
مولانا داود راز
‏‏‏‏ اور عبداللہ بن زید بن عامر نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( انصار سے ) یہ بھی فرمایا کہ تم ان کاموں پر صبر کرنا یہاں تک کہ تم حوض کوثر پر آ کر مجھ سے ملو ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الفتن / حدیث: Q7052
حدیث نمبر: 7052
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً وَأُمُورًا تُنْكِرُونَهَا ، قَالُوا : فَمَا تَأْمُرُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : أَدُّوا إِلَيْهِمْ حَقَّهُمْ وَسَلُوا اللَّهَ حَقَّكُمْ " .
مولانا داود راز
´ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا ، ان سے زید بن وہب نے بیان کیا ، انہوں نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا ” تم میرے بعد بعض کام ایسے دیکھو گے جو تم کو برے لگیں گے ۔ “ صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ اس سلسلے میں کیا حکم فرماتے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” انہیں ان کا حق ادا کرو اور اپنا حق اللہ سے مانگو ۔ “
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الفتن / حدیث: 7052
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7053
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنِ الْجَعْدِ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ كَرِهَ مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا فَلْيَصْبِرْ ، فَإِنَّهُ مَنْ خَرَجَ مِنَ السُّلْطَانِ شِبْرًا مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً " .
مولانا داود راز
´ہم سے مسدد نے بیان کیا ، ان سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا ، ان سے جعد صیرفی نے ، ان سے ابورجاء عطاردی نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جو شخص اپنے امیر میں کوئی ناپسند بات دیکھے تو صبر کرے ( خلیفہ ) کی اطاعت سے اگر کوئی بالشت بھر بھی باہر نکلا تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہو گی ۔ “
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الفتن / حدیث: 7053
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7054
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ رَأَى مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا يَكْرَهُهُ فَلْيَصْبِرْ عَلَيْهِ ، فَإِنَّهُ مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا فَمَاتَ إِلَّا مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً ".
مولانا داود راز
´ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، ان سے جعد ابی عثمان نے بیان کیا ، ان سے ابورجاء العطاردی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ` میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا ، ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جس نے اپنے امیر کی کوئی ناپسند چیز دیکھی تو اسے چاہے کہ صبر کرے اس لیے کہ جس نے جماعت سے ایک بالشت بھر جدائی اختیار کی اور اسی حال میں مرا تو وہ جاہلیت کی سی موت مرے گا ۔ “
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الفتن / حدیث: 7054
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7055
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ ، قَالَ : " دَخَلْنَا عَلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَهُوَ مَرِيضٌ ، قُلْنَا : أَصْلَحَكَ اللَّهُ ، حَدِّثْ بِحَدِيثٍ يَنْفَعُكَ اللَّهُ بِهِ سَمِعْتَهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : دَعَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَبَايَعْنَاهُ .
مولانا داود راز
´ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ، کہا مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن حارث نے ، ان سے بکیر بن عبداللہ نے ، ان سے بسر بن سعید نے ، ان سے جنادہ بن ابی امیہ نے بیان کیا کہ` ہم عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پہنچے وہ مریض تھے اور ہم نے عرض کیا : اللہ تعالیٰ آپ کو صحت عطا فرمائے ۔ کوئی حدیث بیان کیجئے جس کا نفع آپ کو اللہ تعالیٰ پہنچائے ۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لیلۃالعقبہ میں سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بلایا اور ہم نے آپ سے بیعت کی ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الفتن / حدیث: 7055
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7056
فَقَالَ فِيمَا أَخَذَ عَلَيْنَا : أَنْ بَايَعَنَا عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي مَنْشَطِنَا وَمَكْرَهِنَا ، وَعُسْرِنَا وَيُسْرِنَا ، وَأَثَرَةً عَلَيْنَا ، وَأَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ إِلَّا أَنْ تَرَوْا كُفْرًا بَوَاحًا عِنْدَكُمْ مِنَ اللَّهِ فِيهِ بُرْهَانٌ " .
مولانا داود راز
´انہوں ( عبادہ بن صامت ) نے بیان کیا کہ` جن باتوں کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے عہد لیا تھا ان میں یہ بھی تھا کہ خوشی و ناگواری ، تنگی اور کشادگی اور اپنی حق تلفی میں بھی اطاعت و فرمانبرداری کریں اور یہ بھی کہ حکمرانوں کے ساتھ حکومت کے بارے میں اس وقت تک جھگڑا نہ کریں جب تک ان کو اعلانیہ کفر کرتے نہ دیکھ لیں ۔ اگر وہ اعلانیہ کفر کریں تو تم کو اللہ کے پاس سے دلیل مل جائے گی ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الفتن / حدیث: 7056
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7057
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ ، " أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اسْتَعْمَلْتَ فُلَانًا وَلَمْ تَسْتَعْمِلْنِي ؟ ، قَالَ : إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي " .
مولانا داود راز
´ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے ، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے اور ان سے اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے ،` ایک صاحب ( خود اسید ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ نے فلاں عمرو بن العاص کو حاکم بنا دیا اور مجھے نہیں بنایا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ انصاری میرے بعد اپنی حق تلفی دیکھو گے تو قیامت تک صبر کرنا یہاں تک کہ تم مجھ سے آ ملو ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الفتن / حدیث: 7057
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة