حدیث نمبر: Q599
السمر فی الفقه والخير بعد العشاء السامر والجمع السمار والسامر ﻫﻬﻨﺎ في موضع الجمع و أصل السمر ضؤلون القمر و کانوا يتحدثون فيه.
مولانا داود راز
«سامر» کا لفظ جو قرآن میں ہے «سمر» ہی سے نکلا ہے ۔ اس کی جمع «سمار» ہے اور لفظ «سامر» اس آیت میں جمع کے معنی میں ہے ۔ «سمر» اصل میں چاند کی روشنی کو کہتے ہیں ، اہل عرب چاندنی راتوں میں گپ شپ کیا کرتے تھے ۔
حدیث نمبر: 599
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْمِنْهَالِ ، قَالَ : انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي إِلَى أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، فَقَالَ لَهُ : أَبِي حَدِّثْنَا ، " كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ ؟ قَالَ : كَانَ يُصَلِّي الْهَجِيرَ وَهِيَ الَّتِي تَدْعُونَهَا الْأُولَى حِينَ تَدْحَضُ الشَّمْسُ وَيُصَلِّي الْعَصْرَ ، ثُمَّ يَرْجِعُ أَحَدُنَا إِلَى أَهْلِهِ فِي أَقْصَى الْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ ، وَنَسِيتُ مَا قَالَ فِي الْمَغْرِبِ ، قَالَ : وَكَانَ يَسْتَحِبُّ أَنْ يُؤَخِّرَ الْعِشَاءَ ، قَالَ : وَكَانَ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا ، وَكَانَ يَنْفَتِلُ مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ حِينَ يَعْرِفُ أَحَدُنَا جَلِيسَهُ وَيَقْرَأُ مِنَ السِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے ، کہا ہم سے عوف اعرابی نے ، کہا کہ ہم سے ابوالمنہال سیار بن سلامہ نے ، انہوں نے کہا کہ` میں اپنے باپ سلامہ کے ساتھ ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ ان سے میرے والد صاحب نے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرض نمازیں کس طرح ( یعنی کن کن اوقات میں ) پڑھتے تھے ۔ ہم سے اس کے بارے میں بیان فرمائیے ۔ انہوں نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم «هجير» ( ظہر ) جسے تم صلوٰۃ اولیٰ کہتے ہو سورج ڈھلتے ہی پڑھتے تھے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عصر پڑھنے کے بعد کوئی بھی شخص اپنے گھر واپس ہوتا اور وہ بھی مدینہ کے سب سے آخری کنارہ پر تو سورج ابھی صاف اور روشن ہوتا ۔ مغرب کے بارے میں آپ نے جو کچھ بتایا مجھے یاد نہیں رہا ۔ اور فرمایا کہ عشاء میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم تاخیر پسند فرماتے تھے ۔ اس سے پہلے سونے کو اور اس کے بعد بات کرنے کو پسند نہیں کرتے تھے ۔ صبح کی نماز سے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوتے تو ہم اپنے قریب بیٹھے ہوئے دوسرے شخص کو پہچان لیتے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر میں ساٹھ سے سو تک آیتیں پڑھتے تھے ۔