مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: اس شخص کی دلیل جس نے فقط عصر اور فجر کے بعد نماز کو مکروہ رکھا ہے۔
حدیث نمبر: Q589
رَوَاهُ عُمَرُ ، وَابْنُ عُمَرَ ، وأبو سعيد ، وأبو هريرة
مولانا داود راز
‏‏‏‏ اس کو عمر ، ابن عمر ، ابوسعید اور ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم نے بیان کیا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب مواقيت الصلاة / حدیث: Q589
حدیث نمبر: 589
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " أُصَلِّي كَمَا رَأَيْتُ أَصْحَابِي يُصَلُّونَ ، لَا أَنْهَى أَحَدًا يُصَلِّي بِلَيْلٍ وَلَا نَهَارٍ مَا شَاءَ ، غَيْرَ أَنْ لَا تَحَرَّوْا طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلَا غُرُوبَهَا " .
مولانا داود راز
´ہم سے ابوالنعمان محمد بن فضل نے بیان کیا ، کہا ہم سے حماد بن زید نے ایوب سے کہا ، انہوں نے نافع سے ، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ، آپ نے فرمایا کہ` جس طرح میں نے اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھتے دیکھا ، میں بھی اسی طرح نماز پڑھتا ہوں ، کسی کو روکتا نہیں ۔ دن اور رات کے جس حصہ میں جی چاہے نماز پڑھ سکتا ہے ، البتہ سورج کے طلوع اور غروب کے وقت نماز نہ پڑھا کرو ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب مواقيت الصلاة / حدیث: 589
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔