کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: اس بیان میں کہ صبح کی نماز کے بعد سورج بلند ہونے تک نماز پڑھنے کے متعلق کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 581
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : شَهِدَ عِنْدِي رِجَالٌ مَرْضِيُّونَ وَأَرْضَاهُمْ عِنْدِي عُمَرُ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَشْرُقَ الشَّمْسُ ، وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ " ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، سَمِعْتُ أَبَا الْعَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي نَاسٌ بِهَذَا .
مولانا داود راز
´ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ہشام دستوائی نے بیان کیا ، انہوں نے قتادہ بن دعامہ سے ، انہوں نے ابوالعالیہ رفیع سے ، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے فرمایا کہ` میرے سامنے چند معتبر حضرات نے گواہی دی ، جن میں سب سے زیادہ معتبر میرے نزدیک عمر رضی اللہ عنہ تھے ، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز کے بعد سورج بلند ہونے تک اور عصر کی نماز کے بعد سورج ڈوبنے تک نماز پڑھنے سے منع فرمایا ۔ ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے شعبہ سے ، انہوں نے قتادہ سے کہ میں نے ابوالعالیہ سے سنا ، وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے تھے کہ انہوں نے فرمایا کہ مجھ سے چند لوگوں نے یہ حدیث بیان کی ۔ ( جو پہلے ذکر ہوئی ) ۔
حدیث نمبر: 582
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَحَرَّوْا بِصَلَاتِكُمْ طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلَا وَغُرُوبَهَا " .
مولانا داود راز
´ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے ہشام بن عروہ سے ، انہوں نے کہا کہ مجھے میرے والد عروہ نے خبر دی ، انہوں نے کہا کہ مجھے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز پڑھنے کے لیے سورج کے طلوع اور غروب ہونے کے انتظار میں نہ بیٹھے رہو ۔
حدیث نمبر: 583
وَقَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا طَلَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَأَخِّرُوا الصَّلَاةَ حَتَّى تَرْتَفِعَ ، وَإِذَا غَابَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَأَخِّرُوا الصَّلَاةَ حَتَّى تَغِيبَ " ، تَابَعَهُ عَبْدَةُ .
مولانا داود راز
´عروہ نے کہا مجھ سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب سورج کا اوپر کا کنارہ طلوع ہونے لگے تو نماز نہ پڑھو یہاں تک کہ وہ بلند ہو جائے ۔ اور جب سورج ڈوبنے لگے اس وقت بھی نماز نہ پڑھو ، یہاں تک کہ غروب ہو جائے ۔ اس حدیث کو یحییٰ بن سعید قطان کے ساتھ عبدہ بن سلیمان نے بھی روایت کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 584
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعَتَيْنِ وَعَنْ لِبْسَتَيْنِ وَعَنْ صَلَاتَيْنِ نَهَى عَنْ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ ، وَعَنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ ، وَعَنِ الِاحْتِبَاءِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ يُفْضِي بِفَرْجِهِ إِلَى السَّمَاءِ ، وَعَنِ الْمُنَابَذَةِ وَالْمُلَامَسَةِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا ، انہوں نے ابی اسامہ کے واسطے سے بیان کیا ۔ انہوں نے عبیداللہ بن عمر سے ، انہوں نے خبیب بن عبدالرحمٰن سے ، انہوں نے حفص بن عاصم سے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کی خرید و فروخت اور دو طرح کے لباس اور دو وقتوں کی نمازوں سے منع فرمایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر کے بعد سورج نکلنے تک اور نماز عصر کے بعد غروب ہونے تک نماز پڑھنے سے منع فرمایا ( اور کپڑوں میں ) اشتمال صماء یعنی ایک کپڑا اپنے اوپر اس طرح لپیٹ لینا کہ شرمگاہ کھل جائے ۔ اور ( احتباء ) یعنی ایک کپڑے میں گوٹ مار کر بیٹھنے سے منع فرمایا ۔ ( اور خرید و فروخت میں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منابذہ اور ملامسہ سے منع فرمایا ۔