حدیث نمبر: Q521
وَقَوْلِهِ : إِنَّ الصَّلاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَوْقُوتًا سورة النساء آية 103 مُوَقَّتًا وَقَّتَهُ عَلَيْهِمْ .
مولانا داود راز
کہ مسلمانوں پر نماز وقت مقررہ میں فرض ہے ، یعنی اللہ نے ان کے لیے نمازوں کے اوقات مقرر کر دئیے ہیں ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب مواقيت الصلاة / حدیث: Q521
حدیث نمبر: 521
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخَّرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ أَخَّرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا وَهُوَ بِالْعِرَاقِ ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيُّ ، فَقَالَ : مَا هَذَا يَا مُغِيرَةُ ؟ أَلَيْسَ قَدْ عَلِمْتَ أَنَّ جِبْرِيلَ نَزَلَ فَصَلَّى ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : بِهَذَا أُمِرْتُ ، فَقَالَ عُمَرُ لِعُرْوَةَ : اعْلَمْ مَا تُحَدِّثُ ، أَوَ أَنَّ جِبْرِيلَ هُوَ أَقَامَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقْتَ الصَّلَاةِ ، قَالَ عُرْوَةُ : كَذَلِك كَانَ بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ .
مولانا داود راز
´ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ میں نے امام مالک رحمہ اللہ علیہ کو پڑھ کر سنایا ابن شہاب کی روایت سے کہ` عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہ نے ایک دن ( عصر کی ) نماز میں دیر کی ، پس عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لے گئے ، اور انہوں نے بتایا کہ ( اسی طرح ) مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ایک دن ( عراق کے ملک میں ) نماز میں دیر کی تھی جب وہ عراق میں ( حاکم ) تھے ۔ پس ابومسعود انصاری ( عقبہ بن عمر ) ان کی خدمت میں گئے ۔ اور فرمایا ، مغیرہ رضی اللہ عنہ ! آخر یہ کیا بات ہے ، کیا آپ کو معلوم نہیں کہ جب جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے تو انہوں نے نماز پڑھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نماز پڑھی ، پھر جبرائیل علیہ السلام نے نماز پڑھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نماز پڑھی ، پھر جبرائیل علیہ السلام نے نماز پڑھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نماز پڑھی ، پھر جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ میں اسی طرح حکم دیا گیا ہوں ۔ اس پر عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے عروہ سے کہا ، معلوم بھی ہے آپ کیا بیان کر رہے ہیں ؟ کیا جبرائیل علیہ السلام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے اوقات ( عمل کر کے ) بتلائے تھے ۔ عروہ نے کہا ، کہ ہاں اسی طرح بشیر بن ابی مسعود رضی اللہ عنہ اپنے والد کے واسطہ سے بیان کرتے تھے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب مواقيت الصلاة / حدیث: 521
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 522
قَالَ عُرْوَةُ : وَلَقَدْ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِهَا قَبْلَ أَنْ تَظْهَرَ " .
مولانا داود راز
عروہ رحمہ اللہ علیہ نے کہا کہ مجھ سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز اس وقت پڑھ لیتے تھے جب ابھی دھوپ ان کے حجرہ میں موجود ہوتی تھی اس سے بھی پہلے کہ وہ دیوار پر چڑھے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب مواقيت الصلاة / حدیث: 522
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»