حدیث نمبر: 1141
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ مَرْدَوَيْهِ الأَهْوَازِيُّ ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : " دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَنَا صَبِيُّ يَشْتَكِي ، فَقَالَ : مَا لَهُ ؟ ، فَقُلْنَا : اتَّهَمْنَا بِهِ الْعَيْنَ ، فَقَالَ : أَلا تَسْتَرْقُونَ له مِنَ الْعَيْنِ ؟ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ ، إِلا أَبُو مُعَاوِيَةَ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ہمارے پاس ایک بچہ تھا جو بیمار تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اسے کیا تکلیف ہے؟“ ہم نے عرض کیا: ہمیں اس پر نظر کا وہم ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس کو نظر کا دم نہیں کرتے۔“