کتب حدیثمعجم صغير للطبرانيابوابباب: اللہ تعالیٰ کی تسبیح، تعریف اور تکبیر کہنے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 1129
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عِيسَى بْنِ الْمُنْذِرِ الْحِمْصِيُّ ، بِحِمْصَ ، سَنَةَ ثَمَانٍ وَسَبْعِينَ وَمِائَتَيْنِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ الْكُوفِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُجَاهِدٌ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ الأَنْصَارِيِّ وَهُوَ يُذَكِّرُ أَصْحَابَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : "أَمَا إِنَّكُمُ الْمَلأُ الَّذِينَ أَمَرَنِي اللَّهُ أَنْ أَصْبِرَ نَفْسِي مَعَكُمْ ، ثُمَّ تَلا هَذِهِ الآيَةَ وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ إِلَى قَوْلِهِ تَعَالَى وَكَانَ أَمْرُهُ فُرُطًا سورة الكهف آية 28 ، أَمَا إِنَّهُ مَا جَلَسَ عِدَّتُكُمْ إِلا جَلَسَ مَعَهُمْ عِدَّتُهُمْ مِنَ الْمَلائِكَةِ إِنْ سَبَّحُوا اللَّهَ سَبَّحُوهُ ، وَإِنْ حَمِدُوا اللَّهَ حَمِدُوهُ ، وَإِنْ كَبَّرُوا اللَّهَ كَبَّرُوهُ ، ثُمَّ يَصْعَدُونَ إِلَى الرَّبِّ وَهُوَ أَعْلَمُ مِنْهُمْ ، فَيَقُولُونَ : يَا رَبَّنَا ، عِبَادُكَ سَبَّحُوكَ فَسَبَّحْنَا ، وَكَبَّرُوكَ فَكَبَّرْنَا ، وَحَمِدُوكَ فَحِمَدْنَا ، فَيَقُولُ رَبُّنَا : يَا مَلائِكَتِي أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ ، فَيَقُولُونَ : فِيهِمْ فُلانٌ وَفُلانٌ الْخَطَّاءُ ، فَيَقُولُ : هُمُ الْقَوْمُ لا يَشْقَى بِهِمْ جَلِيسُهُمْ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عَمْرِو بْنِ ذَرٍّ ، إِلا مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ ، تَفَرَّدَ بِهِ عِيسَى بْنُ الْمُنْذِرِ ، وَلا يُرْوَى عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، إِلا بِهَذَا الإِسْنَادِ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے اور وہ اپنے ساتھیوں کا ذکر کر رہے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ایسے لوگ ہو کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اپنے آپ کو تمہارے ساتھ پابند رکھوں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: ﴿وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ وَلَا تَعْدُ عَيْنَاكَ عَنْهُمْ تُرِيدُ زِينَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَلَا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَنْ ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ وَكَانَ أَمْرُهُ فُرُطًا﴾ (الکہف: 28) ”اور اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ رکھیں جو اپنے رب کو صبح و شام پکارتے ہیں، جو اس کی رضا مندی چاہتے ہیں، اور دنیا کی زندگی تلاش کرتے ہوئے اپنی آنکھیں ان سے آگے نہ بڑھائیں، اور اس شخص کی پیروی نہ کریں جس کے دل کو ہم نے غافل کر دیا اور اس کا کام حد سے گزرا ہوا ہے۔“ ”خبردار! تم لوگ جتنی تعداد میں بیٹھتے ہو اتنی ہی تعداد میں تمہارے ساتھ فرشتے بھی بیٹھ جاتے ہیں، اگر تم اللہ کی تسبیحیں بیان کرتے ہو تو وہ بھی اس کی تسبیحیں کہتے ہیں، اگر تم اللہ کی تعریفیں کہتے ہو تو وہ بھی اس کی تعریفیں کہتے ہیں، اگر تم اس کی تکبیریں کہو تو وہ بھی اس کی بڑائی بیان کرتے ہیں۔ پھر وہ اللہ تعالیٰ کی طرف چڑھ جاتے ہیں اور وہ ان کے متعلق اچھی طرح جانتا ہے، تو وہ کہتے ہیں: اے ہمارے رب! تیرے بندوں نے تیری تسبیحیں کہیں تو ہم نے بھی کہیں، انہوں نے تیری بڑائی بیان کی تو ہم نے بھی کی، انہوں نے تیری تعریف کی تو ہم نے بھی کی۔ تو ہمارا رب فرماتا ہے: ”اے میرے فرشتو! میں تمہیں گواہ کرتا ہوں کہ میں نے انہیں معاف کر دیا“، تو وہ کہتے ہیں: فلاں فلاں شخص گنہگار ہیں، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”یہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کا ہم نشین بھی بدبخت نہیں ہوتا۔“
حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب التفسير و فضائل القرآن / حدیث: 1129
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه الضياء المقدسي فى «الأحاديث المختارة» برقم: 160، والطبراني فى «الصغير» برقم: 1074 ¤قال الهيثمي: وفيه محمد بن حماد الكوفي وهو ضعيف ، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: (10 / 76)»