حدیث نمبر: 1091
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ خَلَفٍ الْقَطِيعِيُّ الْبَغْدَادِيُّ ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى الْخَزَّازُ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنَّ رَجُلا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ أَخُوهُ قَدْ سُقِيَ بَطْنُهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " إِنَّ أَخِي قَدْ سُقِيَ بَطْنُهُ ، فَأَتَيْتُ الأَطِبَّاءَ ، فَأَمَرُونِي بِالْكَيِّ ، أَفَأَكْوِيهُ ؟ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : لا تَكْوِهِ ، وَرُدَّهُ إِلَى أَهْلِهِ ، فَمَرَّ بِهِ بَعِيرٌ ، فَضَرَبَ بَطْنَهُ ، فَانْخَمَصَ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَمَا إِنَّكَ لَوْ أَتَيْتَ بِهِ الأَطِبَّاءَ ، قُلْتَ : النَّارُ شَفَتْهُ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ يُونُسَ ، إِلا عَبْدُ اللَّهِ ، تَفَرَّدَ بِهِ عُقْبَةُ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس کے ساتھ اس کا بھائی بھی تھا، وہ کہنے لگا: یا رسول اللہ! میرے بھائی کے پیٹ میں پانی جمع ہو گیا ہے، میں ڈاکٹروں کے پاس گیا تو وہ مجھے اس کو داغ دینے کا کہہ رہے ہیں، تو کیا اس کو داغ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں! اس کو واپس گھر لے جاؤ۔“ تو وہاں سے کوئی اونٹ گزرا جس نے اس کے پیٹ میں مارا تو وہ سکڑ گیا، وہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم ڈاکٹروں کے پاس جاتے تو تم یوں کہنے لگتے کہ اس کو آگ نے شفا دی۔“