حدیث نمبر: 1025
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زِيَادٍ الشَّيْبَانِيُّ أَبُو مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِيُّ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ الصَّفَّارُ ، حَدَّثَنَا سَلامُ أَبُو الْمُنْذِرِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ، أَنْ لا تَأْخُذَنِي فِي اللَّهِ لَوْمَةُ لائِمٍ ، وَأَنْ أَنْظُرَ إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلُ مِنِّي ، وَلا أَنْظُرُ إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقِي ، وَأَوْصَانِي بِحُبِّ الْمَسَاكِينِ وَالدُّنُوِّ مِنْهُمْ ، وَأَوْصَانِي بِقَوْلِ الْحَقِّ وَإِنْ كَانَ مُرًّا ، وَأَوْصَانِي بِصِلَةِ الرَّحِمِ وَإِنْ أَدْبَرَتْ ، وَأَوْصَانِي أَنْ لا أَسْأَلَ النَّاسَ شَيْئًا ، وَأَوْصَانِي أَنْ أَسْتَكْثِرَ مِنْ قَوْلِ لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ ، فَإِنَّهَا مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ سَلامٍ ، إِلا عَفَّانُ ، وَابْنُ عَائِشَةَ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھے میرے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت فرمائی کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے معاملے میں کسی ملامت گر کی ملامت کسی اچھے کام میں رکاوٹ نہ بنے، اور میں اپنے سے پست آدمی کی طرف دیکھوں اور جو مجھ سے اونچا ہے اسے نہ دیکھوں، اور مجھے مساکین کے ساتھ محبت کرنے اور ان کے قریب ہونے کی وصیت فرمائی۔ اور مجھے سچ کہنے کی وصیت کی اگرچہ کڑوا ہو، اور مجھے صلہ رحمی کا حکم دیا اگرچہ وہ پیٹھ پھیر لے، اور یہ وصیت کی کہ میں کسی سے کچھ بھی سوال نہ کروں، اور یہ کہ میں زیادہ تر «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ» پڑھوں، کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ہے۔
حدیث نمبر: 1026
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الأَنْمَاطِيُّ أَبُو الْعَبَّاسِ الْبَغْدَادِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ جُنَادٍ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَفَّافُ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكَرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : "اغْدُ عَالِمًا ، أَوْ مُتَعَلِّمًا ، أَوْ مُسْتَمِعًا ، أَوْ مُحِبًّا ، وَلا تَكُنِ الْخَامِسَ فَتَهْلَكَ "، قَالَ عَطَاءُ بْنُ مُسْلِمٍ : فَقَالَ لِي مِسْعَرٌ : زِدْتَنَا خَامِسَةً لَمْ تَكُنْ عِنْدَنَا ، وَقَالَ : وَالْخَامِسَةُ أَنْ تَبْغُضَ الْعِلْمَ وَأَهْلَهُ ، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ خَالِدٍ ، إِلا عَطَاءٌ ، وَلَمْ يَرْوِهِ أَيْضًا عَنْ مِسْعَرٍ ، إِلا عَطَاءٌ ، تَفَرَّدَ بِهِ عُبَيْدُ بْنُ عَبَّادٍ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”تم صبح کو نکلو تو یا عالم ہو، یا متعلم و علم سکھانے والے ہو، یا سننے والے، یا دوستی رکھنے والے بنو، پانچویں قسم کے آدمی نہ بننا ورنہ ہلاک ہو جاؤ گے۔“