مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثمعجم صغير للطبرانيابوابباب: رات کو سونے سے قبل کی دعا اور اس کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 933
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ الدِّمَشْقِيُّ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْمُلائِيِّ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ابْنِ عَازِبٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَلَّمَ رَجُلا أَنْ يَقُولَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ : اللَّهُمَّ وَجَّهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ ، وَأَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ ، رَهْبَةً مِنْكَ ، وَرَغْبَةً إِلَيْكَ ، لا مَلْجَأَ ولا مَنْجَا مِنْكَ إِلا إِلَيْكَ ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أنزلت ، وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ ، فَإِنْ مَاتَ مِنْ لَيْلَتِهِ غُفِرَ لَهُ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ ، إِلا ثَوْرٌ ، وَلا عَنْ ثَوْرٍ ، إِلا يَحْيَى ، تَفَرَّدَ بِهِ وَلَدُهُ عَنْهُ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو یہ کلمات سکھائے کہ جب وہ اپنے بستر کی طرف جائے تو وہ اس طرح کہے: ”«اللّٰهُمَّ وَجَّهْتُ وَجْهِيَ إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، وَأَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ، رَهْبَةً مِنْكَ، وَرَغْبَةً إِلَيْكَ، وَلَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ»“ ”اے اللہ! میں نے اپنا چہرہ تیری طرف موڑ دیا، اور اپنی پیٹھ تیرے سپرد کر دی، اور اپنا معاملہ تیرے حوالے کر دیا، اور اپنی جان بھی تیرے حوالے کر دی، تجھ سے ڈرتے ہوئے، اور تیری طرف رغبت کرتے ہوئے، کوئی تجھ سے جائے پناہ اور جائے نجات تیرے بغیر نہیں ہے، میں تیری نازل کردہ کتاب پر ایمان لایا ہوں اور تیرے بھیجے ہوئے رسول پر بھی ایمان لایا ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: اگر وہ اسی رات موت کا شکار ہو جائے تو اس کے سارے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔
حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الأدعية و الأذكار / حدیث: 933
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
حدیث تخریج «صحيح ، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 247، 6311، 6313، 6315، 7488، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2710، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 216، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5522، 5523، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 10519، 10520، وأبو داود فى «سننه» برقم: 5046، والترمذي فى «جامعه» برقم: 3394، 3399، 3574، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2725، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3876، والحميدي فى «مسنده» برقم: 740، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 52، 1248، 1494، 1636، والطبراني فى «الصغير» برقم: 3، والترمذي فى "«الشمائل » برقم: 254، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 19829»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔