کتب حدیث ›
معجم صغير للطبراني › ابواب
› باب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، تابعین و تبع تابعین رحمہم اللہ کے سنہری ادوار کا بیان
حدیث نمبر: 854
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْعَلاءِ الْهَمْدَانِيُّ ، بِبَغْدَادَ سَنَةَ سَبْعٍ وَثَمَانِينَ وَمِائَتَيْنِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ عِصَامٍ الْجُرْجَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : خَطَبَنَا عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، بِالْجَابِيَةِ ، فَقَالَ : " قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَقَامِي فِيكُمْ ، فَقَالَ : أَكْرِمُوا أَصْحَابِي ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ يَفْشُو الْكَذِبُ حَتَّى يَشْهَدَ الرَّجُلُ وَلَمْ يُسْتَشْهَدْ ، وَيَحْلِفُ وَلَمْ يُسْتَحْلَفْ ، فَمَنْ أَرَادَ بُحْبُوحَةَ الْجَنَّةِ ، فَلْيَلْزَمِ الْجَمَاعَةَ ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ مَعَ الْوَاحِدِ ، وَهُوَ مِنَ الاثْنَيْنِ أَبْعَدُ ، أَلا لا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ ، فَإِنَّ ثَالِثَهُمَا الشَّيْطَانُ ، أَلا وَمَنْ سَرَّتْهُ حَسَنَتُهُ ، وَسَاءَتْهُ سَيِّئَتُهُ ، فَهُوَ مُؤْمِنٌ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ شُعْبَةَ ، إِلا أَبُو دَاوُدَ ، تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ عِصَامٍ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہمیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جابیہ کے مقام پر خطاب فرمایا تو فرمایا: جس طرح میں تم میں کھڑا ہوں اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں کھڑے ہوئے اور فرمانے لگے: ”میرے صحابہ کی عزت کرو، پھر ان لوگوں کی جو ان کے بعد میں آنے والے ہیں، پھر ان لوگوں کی جو ان کے بعد آنے والے ہیں۔ پھر جھوٹ پھیل جائے گا، حتیٰ کہ آدمی گواہی دیتا پھرے گا حالانکہ اس سے گواہی طلب نہیں کی گئی ہو گی، اور وہ قسمیں کھاتا پھرے گا حالانکہ اس سے قسم نہیں لی گئی ہو گی، تو جو شخص جنت کے مرکز میں جانا چاہتا ہے وہ مسلمانوں کی جماعت سے لگا رہے، کیونکہ اکیلے آدمی کے ساتھ شیطان ہوتا ہے، اور وہ دو آدمیوں کے ساتھ ہونے سے دور ہو جاتا ہے۔ خبردار! کوئی آدمی کسی عورت کے ساتھ الگ نہ ہو کیونکہ ان میں تیسرا شیطان ہوتا ہے، خبردار! جس کو اس کی نیکی خوش کر دے اور اس کی برائی غمناک کر دے تو وہ مومن ہوتا ہے۔“