حدیث نمبر: 845
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ إِلْيَاسَ بْنِ صَدَقَةَ الْكَبَّاشُ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ آلُ مُحَمَّدٍ ؟ ، فَقَالَ : كُلُّ تَقِيٍّ ، وَقَالَ : وَتَلا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : إِنْ أَوْلِيَاؤُهُ إِلا الْمُتَّقُونَ سورة الأنفال آية 34 "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، إِلا نُوحٌ . تَفَرَّدَ بِهِ نُعَيْمٌ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کون سے ہیں؟ فرمایا: ”ہر اللہ سے ڈرنے والا۔“ پھر یہ آیت پڑھی: «إِنْ أَوْلِيَاؤُهُ إِلَّا الْمُتَّقُونَ» ”بے شک اس کے دوست صرف متقی ہیں۔“ (الأنفال: 34)
حدیث نمبر: 846
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُجَاهِدٍ الأَصْبَهَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ ، حَدَّثَنَا زَافِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ طُعْمَةَ بْنِ عَمْرٍو الْجَعْفَرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْجَحَّافِ دَاوُدَ بْنِ أَبِي عَوْفٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ أُمَّ سَلَمَةَ أُعَزِّيهَا عَلَى الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، فَقَالَتْ : دَخَلَ عَلَي ّرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَلَسَ عَلَى مَنَامَةٍ لَنَا ، فَجَاءَتْهُ فَاطِمَةُ رِضْوَانُ اللَّهِ وَرَحْمَتُهُ عَلَيْهَا بِشَيْءٍ وَضَعْتُهُ ، فَقَالَ : " ادْعِي لِي حَسَنًا ، وَحُسَيْنًا ، وَابْنَ عَمِّكِ عَلِيًّا ، فَلَمَّا اجْتَمَعُوا عِنْدَهُ قَالَ لَهُمْ : هَؤُلاءِ حَامَتِي وَأَهْلُ بَيْتِي ، فَأَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ طُعْمَةَ ، إِلا زَافِرٌ ، تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ مِشْكِدَانَةُ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی
شہر بن حوشب کہتے ہیں: میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی تعزیت کے لیے آیا تو وہ کہنے لگیں: ایک دفعہ میرے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور ایک چادر پر بیٹھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کوئی چیز لائیں، میں نے اس کو رکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”حسن، حسین اور اپنے چچازاد کو بھی بلاؤ۔“ جب سارے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اکٹھے ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق فرمایا: ”یہ میری خاص اولاد ہے، اور میرے اہل بیت ہیں۔ اے اللہ! ان سے گندگی اور نجاست کو دور کر دے، اور ان کو اچھی طرح پاک کر۔“