کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: جب مسلمان غصہ میں یہودی کو تھپڑ مار ڈالے۔
حدیث نمبر: Q6916
رَوَاهُ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ اس کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الديات / حدیث: Q6916
حدیث نمبر: 6916
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تُخَيِّرُوا بَيْنَ الْأَنْبِيَاءِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان ثوری نے ، انہوں نے عمرو بن یحییٰ سے ، انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے ،` انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” دیکھو اور پیغمبروں سے مجھ کو فضیلت مت دو ۔ “
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الديات / حدیث: 6916
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6917
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ ، عَنْ أَبيه ، عَنْ أَبي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ ، قَالَ : " جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ إِلَى النَّبيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ لُطِمَ وَجْهُهُ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِكَ مِنَ الَأنْصَارِ قَدْ لَطَمَ وَجْهِي ، قَالَ : أَدْعُوهُ ، فَدَعَوْهُ ، قَالَ : لِمَ لَطَمْتَ وَجْهَهُ ؟ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنِّي مَرَرْتُ بِالْيَهُودِ ، فَسَمِعْتَهُ يَقُولُ : وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى الْبَشَرِ ، قَالَ : قُلْتُ : وَعَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، قَالَ : فَأَخَذَتْنِي غَضْبَةٌ ، فَلَطَمْتُهُ ، قَالَ : لَا تُخَيِّرُونِي مِنْ بَيْنِ الْأنْبِيَاءِ ، فَإِنَّ النَّاسَ يُصْعَقُونَ يَوْمَ القِيَامَةٍ فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُفِيقُ فَإِذَا أَنَا بِمُوسَى آخِذٌ بِقَائِمَةٍ مِنْ قَوَائِمِ الْعَرْشِ فَلَا أَدْرِي أَفَاقَ قَبْلِي أَمْ جُوزِيَ بِصَعْقَةِ الطُّورِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے محمد بن یوسف بیکندی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے ، انہوں نے عمرو بن یحییٰ مازنی سے انہوں نے اپنے والد ( یحییٰ بن عمارہ ) سے ، انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے کہا` یہود میں سے ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اس کو کسی نے طمانچہ لگایا تھا ۔ کہنے لگا : اے محمد ! ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تمہارے اصحاب میں سے ایک انصاری شخص نے مجھ کو طمانچہ مارا ۔ آپ نے لوگوں سے فرمایا اس کو بلاؤ تو انہوں نے بلایا ( وہ حاضر ہوا ) آپ نے پوچھا تو نے اس کے منہ پر طمانچہ کیوں مارا ۔ وہ کہنے لگا : یا رسول اللہ ! ایسا ہوا کہ میں یہودیوں کے پاس سے گزرا ، میں نے سنا یہ یہودی یوں قسم کھا رہا تھا قسم اس پروردگار کی جس نے موسیٰ علیہ السلام کو سارے آدمیوں میں سے چن لیا ۔ میں نے کہا کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی وہ افضل ہیں ؟ اور اس وقت مجھے غصہ آ گیا ۔ میں نے ایک طمانچہ لگا دیا ( غصے میں یہ خطا مجھ سے ہو گئی ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( دیکھو خیال رکھو ) اور پیغمبروں پر مجھ کو فضیلت نہ دو قیامت کے دن ایسا ہو گا سب لوگ ( ہیبت خداوندی سے ) بیہوش ہو جائیں گے پھر میں سب سے پہلے ہوش میں آؤں گا ۔ کیا دیکھوں گا موسیٰ علیہ السلام ( مجھ سے بھی پہلے ) عرش کا ایک کونہ تھامے کھڑے ہیں ۔ اب یہ میں نہیں جانتا کہ وہ مجھ سے پہلے ہوش میں آ جائیں گے یا کوہ طور پر جو ( دنیا میں ) بیہوش ہو چکے تھے اس کے بدل وہ آخرت میں بیہوش ہی نہ ہوں گے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الديات / حدیث: 6917
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة