کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: جو بےگناہ ذمی کافر کو مار ڈالے اس کے گناہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 6914
حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، حَدَّثَنَا مُجَاهِدٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ قَتَلَ نَفْسًا مُعَاهَدًا لَمْ يَرِحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ ، وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ عَامًا " .
مولانا داود راز
´ہم سے قیس بن حفص نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے ، کہا ہم سے حسن بن عمرو فقیمی نے ، کہا ہم سے مجاہد نے ، انہوں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے ،` انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جو شخص ایسی جان کو مار ڈاے جس سے عہد کر چکا ہو ( اس کی امان دے چکا ہو ) جیسے ذمی ، کافر کو تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہ سونگھے گا ( چہ جائے کہ اس میں داخل ہو ) حالانکہ بہشت کی خوشبو چالیس برس کی راہ سے معلوم ہوتی ہے ۔“
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الديات / حدیث: 6914
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة