کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: جب کسی نے کسی کو دانت سے کاٹا اور کاٹنے والے کا دانت ٹوٹ گیا تو اس کی کوئی دیت نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 6892
حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنَّ رَجُلًا عَضَّ يَدَ رَجُلٍ ، فَنَزَعَ يَدَهُ مِنْ فَمِهِ ، فَوَقَعَتْ ثَنِيَّتَاهُ ، فَاخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " يَعَضُّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ كَمَا يَعَضُّ الْفَحْلُ لَا دِيَةَ لَكَ " .
مولانا داود راز
´ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا کہ میں نے زرارہ بن ابی اوفی سے سنا ، ان سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہ` ایک شخص نے ایک شخص کے ہاتھ میں دانت سے کاٹا تو اس نے اپنا ہاتھ کاٹنے والے کے منہ میں سے کھینچ لیا جس سے اس کے آگے کے دو دانت ٹوٹ گئے پھر دونوں اپنا جھگڑا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنے ہی بھائی کو اس طرح دانت سے کاٹتے ہو جیسے اونٹ کاٹتا ہے تمہیں دیت نہیں ملے گی ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الديات / حدیث: 6892
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 6893
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : خَرَجْتُ فِي غَزْوَةٍ ، " فَعَضَّ رَجُلٌ ، فَانْتَزَعَ ثَنِيَّتَهُ ، فَأَبْطَلَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا داود راز
´ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا ، ان سے ابن جریج نے ، ان سے عطاء نے ، ان سے صفوان بن یعلیٰ نے اور ان سے ان کے والد نے کہ` میں ایک غزوہ میں باہر تھا اور ایک شخص نے دانت سے کاٹ لیا تھا جس کی وجہ سے اس کے آگے کے دانت ٹوٹ گئے تھے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مقدمہ کو باطل قرار دے کر اس کی دیت نہیں دلائی ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الديات / حدیث: 6893
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»