کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: جو کوئی ناحق کسی کا خون کرنے کی فکر میں ہو اس کا گناہ۔
حدیث نمبر: 6882
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَبْغَضُ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ ثَلَاثَةٌ : مُلْحِدٌ فِي الْحَرَمِ ، وَمُبْتَغٍ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ ، وَمُطَّلِبُ دَمِ امْرِئٍ بِغَيْرِ حَقٍّ لِيُهَرِيقَ دَمَهُ " .
مولانا داود راز
´ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، انہیں عبداللہ بن ابی حسین نے ، ان سے نافع بن جبیر نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` اللہ تعالیٰ کے نزدیک لوگوں ( مسلمانوں ) میں سب سے زیادہ مبغوض تین طرح کے لوگ ہیں ۔ حرم میں زیادتی کرنے والا ، دوسرا جو اسلام میں جاہلیت کی رسموں پر چلنے کا خواہشمند ہو ، تیسرے وہ شخص جو کسی آدمی کا ناحق خون کرنے کے لیے اس کے پیچھے لگے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الديات / حدیث: 6882
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة