کتب حدیث › صحيح البخاري › ابواب ❮کتاب:صحيح البخاريصحيح مسلمسنن ابي داودسنن ابن ماجهسنن نسائيسنن ترمذيصحيح ابن خزيمهصحیح ابن حبانمسند احمدموطا امام مالك رواية يحييٰموطا امام مالك رواية ابن القاسمسنن دارميسنن الدارقطنيسنن سعید بن منصورمصنف ابن ابي شيبهالمنتقى ابن الجارودالادب المفردصحيح الادب المفردمشكوة المصابيحبلوغ المراماللؤلؤ والمرجانشمائل ترمذيصحيفه همام بن منبهسلسله احاديث صحيحهمجموعه ضعيف احاديثمختصر صحيح بخاريمختصر صحيح مسلممختصر حصن المسلممسند الإمام الشافعيمسند الحميديمسند اسحاق بن راهويهمسند عبدالله بن مباركمسند الشهابمسند عبدالرحمن بن عوفمسند عبدالله بن عمرمسند عمر بن عبد العزيزالفتح الربانیمعجم صغير للطبرانيحدیث نمبر:جائیں❯ فہرستِ ابواب — صحيح البخاري بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ} : باب: اللہ تعالیٰ نے (سورۃ نساء میں) فرمایا ”اور جو شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کر دے اس کی سزا جہنم ہے“۔ حدیث 6861–6866 بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَمَنْ أَحْيَاهَا} : باب: اللہ تعالیٰ نے (سورۃ المائدہ میں) فرمایا ”جس نے مرتے کو بچا لیا اس نے گویا سب لوگوں کی جان بچا لی“۔ حدیث 6867–6875 بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالأُنْثَى بِالأُنْثَى فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ فَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ} : باب: اللہ تعالیٰ نے (سورۃ البقرہ میں) فرمایا ”اے ایمان والو! تم میں جو لوگ قتل کئے جائیں ان کا قصاص فرض کیا گیا ہے، آزاد کے بدلہ میں آزاد اور غلام کے بدلہ میں غلام اور عورت کے بدلہ میں عورت، ہاں جس کسی کو اس کے فریق کے مقابل کی طرف سے قصاص کا کوئی حصہ معاف کر دیا جائے سو مطالبہ معقول اور نرم طریق پر کرنا چاہئے اور دیت کو اس فریق کے پاس خوبی سے پہنچا دینا چاہئے، یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے رعایت اور مہربانی ہے سو جو کوئی اس کے بعد بھی زیادتی کرے اس کے لیے آخرت میں درد ناک عذاب ہے“۔ حدیث 6876–6876 بَابُ سُؤَالِ الْقَاتِلِ حَتَّى يُقِرَّ وَالإِقْرَارِ فِي الْحُدُودِ: باب: حاکم کا قاتل سے پوچھ گچھ کرنا یہاں تک کہ وہ اقرار کر لے اور حدود میں اقرار (اثباب جرم کیلئے) کافی ہے۔ حدیث 6876–6876 بَابُ إِذَا قَتَلَ بِحَجَرٍ أَوْ بِعَصًا: باب: جب کسی نے پتھر یا ڈنڈے سے کسی کو قتل کیا۔ حدیث 6877–6877 بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالأَنْفَ بِالأَنْفِ وَالأُذُنَ بِالأُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ} : باب: اللہ تعالیٰ نے (سورۃ المائدہ میں) فرمایا کہ ”جان کا بدلہ جان ہے اور آنکھ کا بدلہ آنکھ اور ناک کا بدلہ ناک اور کان کا بدلہ کان اور دانت کا بدلہ دانت اور زخموں میں قصاص ہے، سو کوئی اسے معاف کر دے تو وہ اس کی طرف سے کفارہ ہو جائے گا اور جو کوئی اللہ کے نازل کئے ہوئے احکام کے موافق فیصلہ نہ کرے تو وہ ظالم ہیں“۔ حدیث 6878–6878 بَابُ مَنْ أَقَادَ بِالْحَجَرِ: باب: پتھروں سے قصاص لینے کا بیان۔ حدیث 6879–6879 بَابُ مَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهْوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ: باب: جس کا کوئی قتل کر دیا گیا ہو اسے دو چیزوں میں ایک کا اختیار ہے۔ حدیث 6880–6881 بَابُ مَنْ طَلَبَ دَمَ امْرِئٍ بِغَيْرِ حَقٍّ: باب: جو کوئی ناحق کسی کا خون کرنے کی فکر میں ہو اس کا گناہ۔ حدیث 6882–6882 بَابُ الْعَفْوِ فِي الْخَطَإِ بَعْدَ الْمَوْتِ: باب: قتل خطا میں مقتول کی موت کے بعد اس کے وارث کا معاف کرنا۔ حدیث 6883–6883 بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ أَنْ يَقْتُلَ مُؤْمِنًا إِلاَّ خَطَأً وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ إِلاَّ أَنْ يَصَّدَّقُوا فَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ وَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِيثَاقٌ فَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ وَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ تَوْبَةً مِنَ اللَّهِ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا} : باب: اللہ تعالیٰ نے (سورۃ نساء میں) فرمایا ”اور یہ کسی مومن کیلئے مناسب نہیں کہ وہ کسی مومن کو ناحق قتل کر دے، بجز اس کے کہ غلطی سے ایسا ہو جائے اور جو کوئی کسی مومن کو غلطی سے قتل کر ڈالے تو ایک مسلمان غلام کا آزاد کرنا اس پر واجب ہے اور دیت بھی جو اس کے عزیزوں کے حوالہ کی جائے سوا اس کے کہ وہ لوگ خود ہی اسے معاف کر دیں تو اگر وہ ایسی قوم میں ہو جو تمہاری دشمن ہے درآں حالیکہ وہ بذات خود مومن ہے تو ایک مسلمان غلام کا آزاد کرنا واجب ہے اور اگر ایسی قوم میں سے ہو کہ تمہارے اور ان کے درمیان معاہدہ ہے تو دیت واجب ہے جو اس کے عزیزوں کے حوالہ کی جائے اور ایک مسلم غلام کا آزاد کرنا بھی، پھر جس کو یہ نہ میسر ہو اس پر دو مہینے کے لگاتار روزے رکھنا واجب ہے، یہ توبہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اللہ بڑا علم والا ہے، بڑا ہی حکمت والا ہے“۔ حدیث 6884–6884 بَابُ إِذَا أَقَرَّ بِالْقَتْلِ مَرَّةً قُتِلَ بِهِ: باب: جب قاتل ایک مرتبہ قتل کا اقرار کر لے تو اسے قتل کر دیا جائے گا۔ حدیث 6884–6884 بَابُ قَتْلِ الرَّجُلِ بِالْمَرْأَةِ: باب: عورت کے بدلہ میں مرد کا قتل کرنا جو عورت کا قاتل ہو۔ حدیث 6885–6885 بَابُ الْقِصَاصِ بَيْنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ فِي الْجِرَاحَاتِ: باب: مردوں اور عورتوں کے درمیان زخموں میں بھی قصاص لیا جائے گا۔ حدیث 6886–6886 بَابُ مَنْ أَخَذَ حَقَّهُ أَوِ اقْتَصَّ دُونَ السُّلْطَانِ: باب: جس نے اپنا حق یا قصاص سلطان کی اجازت کے بغیر لے لیا۔ حدیث 6887–6889 بَابُ إِذَا مَاتَ فِي الزِّحَامِ أَوْ قُتِلَ: باب: جب کوئی ہجوم میں مر جائے یا مارا جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟ حدیث 6890–6890 بَابُ إِذَا قَتَلَ نَفْسَهُ خَطَأً فَلاَ دِيَةَ لَهُ: باب: اگر کسی نے غلطی سے اپنے آپ ہی کو مار ڈالا تو اس کی کوئی دیت نہیں ہے۔ حدیث 6891–6891 بَابُ إِذَا عَضَّ رَجُلاً فَوَقَعَتْ ثَنَايَاهُ: باب: جب کسی نے کسی کو دانت سے کاٹا اور کاٹنے والے کا دانت ٹوٹ گیا تو اس کی کوئی دیت نہیں ہے۔ حدیث 6892–6893 بَابُ السِّنِّ بِالسِّنِّ: باب: دانت کے بدلے دانت۔ حدیث 6894–6894 بَابُ دِيَةِ الأَصَابِعِ: باب: انگلیوں کی دیت کا بیان۔ حدیث 6895–6895 بَابُ إِذَا أَصَابَ قَوْمٌ مِنْ رَجُلٍ هَلْ يُعَاقِبُ أَوْ يَقْتَصُّ مِنْهُمْ كُلِّهِمْ: باب: اگر کئی آدمی ایک شخص کو قتل کر دیں تو کیا قصاص میں سب کو قتل کیا جائے گا یا قصاص لیا جائے گا؟ حدیث 6896–6897 بَابُ الْقَسَامَةِ: باب: قسامت کا بیان۔ حدیث 6898–6899 بَابُ مَنِ اطَّلَعَ فِي بَيْتِ قَوْمٍ فَفَقَئُوا عَيْنَهُ فَلاَ دِيَةَ لَهُ: باب: جس نے کسی کے گھر میں جھانکا اور انہوں نے جھانکنے والے کی آنکھ پھوڑ دی تو اس پر دیت واجب نہیں ہو گی۔ حدیث 6900–6902 بَابُ الْعَاقِلَةِ: باب: عاقلہ کا بیان۔ حدیث 6903–6903 بَابُ جَنِينِ الْمَرْأَةِ: باب: عورت کے پیٹ کا بچہ جو ابھی پیدا نہ ہوا ہو۔ حدیث 6904–6908 بَابُ جَنِينِ الْمَرْأَةِ وَأَنَّ الْعَقْلَ عَلَى الْوَالِدِ وَعَصَبَةِ الْوَالِدِ لاَ عَلَى الْوَلَدِ: باب: پیٹ کے بچے کا بیان اور اگر کوئی عورت خون کرے تو اس کی دیت ددھیال والوں پر ہو گی نہ کہ اس کی اولاد پر۔ حدیث 6909–6910 بَابُ مَنِ اسْتَعَانَ عَبْدًا أَوْ صَبِيًّا: باب: جس نے کسی غلام یا بچہ کو کام کیلئے عاریتاً مانگ لیا۔ حدیث 6911–6911 بَابُ الْمَعْدِنُ جُبَارٌ وَالْبِئْرُ جُبَارٌ: باب: کان میں دب کر اور کنویں میں گر کر مرنے والے کی دیت نہیں ہے۔ حدیث 6912–6912 بَابُ الْعَجْمَاءُ جُبَارٌ: باب: چوپایوں کے نقصان کرنے کا کچھ تاوان نہیں۔ حدیث 6913–6913 بَابُ إِثْمِ مَنْ قَتَلَ ذِمِّيًّا بِغَيْرِ جُرْمٍ: باب: جو بےگناہ ذمی کافر کو مار ڈالے اس کے گناہ کا بیان۔ حدیث 6914–6914 بَابُ لاَ يُقْتَلُ الْمُسْلِمُ بِالْكَافِرِ: باب: مسلمان کو (ذمی) کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا۔ حدیث 6915–6915 بَابُ إِذَا لَطَمَ الْمُسْلِمُ يَهُودِيًّا عِنْدَ الْغَضَبِ: باب: جب مسلمان غصہ میں یہودی کو تھپڑ مار ڈالے۔ حدیث 6916–6917 اس باب کی تمام احادیث ❮ پچھلا باب اگلا باب ❯