کتب حدیث ›
معجم صغير للطبراني › ابواب
› باب: سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کی فضیلت و عظمت کا بیان
حدیث نمبر: 799
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ دُرَيْدٍ النَّحْوِيُّ الْبَصْرِيُّ أَبُو بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَرَجِ الرِّيَاشِيُّ ، حَدَّثَنَا الأَصْمَعِيُّ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : "قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ، وَارْتَدَّتِ الْعَرَبُ ، وَاشْرَأَبَّ النِّفَاقُ ، فَنَزَلَ بِأَبِي مَا لَوْ نزل بِالْجِبَالِ الرَّاسِيَاتِ لَهَاضَهَا ، قَالَتْ : فَمَا اخْتَلَفُوا فِي يَقَظَةٍ إِلا طَارَ أَبِي بِخَطِّهَا وَسِنَانِهَا ، ثُمَّ ذَكَرَتْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، فَقَالَتْ : كَانَ وَاللَّهِ أَحْوَذِيًّا نَسِيجَ وَحْدِهِ ، قَدْ أَعَدَّ لِلأُمُورِ أَقْرَانَهَا ، قَالَ الرِّيَاشِيُّ : يُقَالُ : لِلرَّجُلِ الْبَارِعِ الَّذِي لا يشبه بِهِ أَحَدٌ نَسِيجُ وَحْدِهِ ، وَيُقَالُ : عُيَيْرُ وَحْدِهِ ، وَيُقَالُ : جُحَيْشُ وَحْدِهِ ، وَقَالَ الشَّاعِرُ : جَاءَتْ بِهِ مُعْتَجِرًا بِبُرْدِهْ سَفْوَاءَ تَرَدَّى بِنَسِيجٍ وَحْدَهْ تَقْدَحُ قَيْسٌ كُلُّهَا بِزِنْدِهْ مَنْ يَلْقَهُ مِنْ بَطَلٍ يُسَرْنِدُهْ قَالَ الرِّيَاشِيُّ ، وَأَنْشَدَنِي الأَصْمَعِيُّ : مَا بَالُ هَذَا النَّوْمِ يَغْرَنْدِينِي أَدْفَعُهُ عَنِّي وَيَسْرَنْدِينِي لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الأَصْمَعِيِّ ، إِلا الرِّيَاشِيُّ ، وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ نَحْوَهُ ، وَلَمْ يَذْكُرِ الشِّعْرَ ، وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقَطِيعِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدِينِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ نَحْوَهُ ، وَلَمْ يَذْكُرِ الشِّعْرَ ، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، إِلا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو مَعْمَرٍ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب فوت ہوئے تو عرب کے لوگ مرتد ہو گئے، اور منافق اپنی گردن اٹھائے اپنے لیے موقع و محل دیکھ رہے تھے، میرے باپ پر وہ مصیبت آن پڑی کہ اگر مضبوط چٹانوں پر آتی تو وہ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو جاتیں۔ اور کہتی ہیں کہ لوگوں نے جس نقطے میں بھی اختلاف کیا میرا باپ اس کا حصہ اور اس کا پھل لے کر اڑ گیا۔ پھر میں نے سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا تو وہ کہنے لگیں: وہ بڑے ہوشیار اور تیز تھے، اور وہ اکیلے ہی نہایت اعلیٰ طریق سے معاملے کا تانا بانا تیار کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے اعلیٰ معاملات کے لیے ایسے ہی بے نظیر سردار تیار کیے ہیں۔ ریاشی کہتے ہیں: وہ بندہ جس کی کوئی مثال نہ ہو اسے «نسيج وحده» کہا جاتا ہے، اسی طرح «عيير وحده» اور «جحيش وحده» بھی کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ ایک شاعر نے کہا: اس کی ماں اس کو اس طرح لاتی کہ وہ اپنی چادر کی پگڑی باندھے ہوئے تھا، وہ بہت تیز ہے اور سب کام اکیلے ہی انجام دینے والا ہے۔ قیس اپنے جوڑ سے سب کا دفاع کرتا ہے۔ جس بہادر کو ملتا ہے اس پر چڑھ دوڑتا ہے۔ ریاشی کہتے ہیں: اصمعی نے یہ شعر کہا: کیا وجہ یہ نیند مجھے خوش رکھتی ہے، میں اسے ہٹاتا ہوں مگر وہ مجھ پر جلدی کرتی ہے۔