مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثمعجم صغير للطبرانيابوابباب: ہر انسان کا اپنی رعیت کے نگراں ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 689
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ أَبُو الْفَوَارِسِ الْمَرْوَزِيُّ ، بِمِصْرَ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْجَزَّارُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبَّادٍ أَبُو مُحَمَّدٍ الرُّمَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "كُلُّكُمْ رَاعٍ ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ، فَالأَمِيرُ رَاعٍ عَلَى النَّاسِ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِهِ وَمَسْئُولٌ عَنْ زَوْجَتِهِ وَمَا مَلَكَتْ يَمِينُهُ ، وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ لِحَقِّ زَوْجِهَا وَمَسْئُولَةٌ عَنْ بَيْتِهَا وَوَلَدِهَا ، وَالْمَمْلُوكُ رَاعٍ عَلَى مَوْلاهُ وَمَسْئُولٌ عَنْ مَالِهِ ، فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ، فَأَعِدُّوا لِلْمَسَائِلِ جَوَابًا ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا جَوَابُهَا ؟ ، قَالَ : أَعْمَالُ الْبِرِّ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا التَّمَامِ ، إِلا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، وَلا عَنْ سَعِيدٍ ، إِلا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبَّادٍ ، تَفَرَّدَ بِهِ زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے ہر ایک نگران ہے، اور اس سے اس کی رعیت کے متعلق پوچھا جائے گا۔ آدمی اپنے گھر والوں کا نگران ہے اس سے اس کی بیوی اور غلام کے متعلق پوچھا جائے گا۔ عورت اپنے خاوند کے گھر کی نگران ہے اس سے گھر اور اولاد کے متعلق پوچھا جائے گا، اور غلام اپنے مالک کے مال کا نگران ہے اور اس سے اپنے مالک کے مال کے متعلق پوچھا جائے گا، تو تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور اس سے اس کی رعیت کے متعلق پوچھا جائے گا۔ اس لیے سوالات کے جوابات تیار رکھنا۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یا رسول اللہ! جواب کیا ہو سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کا جواب نیک اعمال ہیں۔“
حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الادب / حدیث: 689
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
حدیث تخریج «إسناده صحيح ، وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4492، 4493، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 9129، 9130، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 1703، 3576، والطبراني فى «الصغير» برقم: 450، 669 ¤قال ابن عدي: سند صحيح ، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (3 / 33)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔