مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثمعجم صغير للطبرانيابوابباب: اللہ تعالیٰ کے انتہائی رحیم و شفیق ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 665
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقَطَّانُ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ : " قُدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْيٍ ، فَإِذَا امْرَأَةٌ مِنَ السَّبْيِ تَسْعَى إِذَا وَجَدَتْ صَبِيًّا فِي السَّبْيِ فَأَخَذَتْهُ ، فَأَلْصَقَتْهُ بِبَطْنِهَا وَأَرْضَعَتْهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتَرَوْنَ هَذِهِ الْمَرْأَةَ طَارِحَةً وَلَدَهَا فِي النَّارِ ؟ ، قُلْنَا : لا وَاللَّهِ ، وَهِيَ تَقْدِرُ عَلَى أَنْ لا تَطْرَحَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَرْحَمُ بِعِبَادِهِ مِنْ هَذِهِ الْمَرْأَةِ بِوَلَدِهَا "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، إِلا أَبُو غَسَّانُ ، تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، وَلا يُرْوَى عَنْ عُمَرَ ، إِلا بِهَذَا الإِسْنَادِ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی لائے گئے، قیدیوں میں ایک عورت دوڑ رہی تھی، جب بھی قیدیوں میں کوئی بچہ دیکھتی تو اس کو اٹھا کر اپنے پیٹ سے لگا لیتی اور دودھ دینے لگتی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے، کیا یہ عورت اپنے بیٹے کو آگ میں پھینک سکتی ہے؟“ ہم نے کہا: اگر اس کے نہ پھینکنے پر طاقت رکھتی ہو تو نہیں پھینکے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل اپنے بندوں پر اس عورت کے اپنے بچے کے ساتھ رحم کرنے سے زیادہ رحیم ہے۔“
حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الادب / حدیث: 665
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
حدیث تخریج «أخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 5999، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2754، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 3011، والطبراني فى «الصغير» برقم: 272، والبزار فى «مسنده» برقم: 287»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔