حدیث نمبر: 651
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِقَالٍ أَبُو الْفَوَارِسِ الْحَرَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَجَبِيُّ ، عَنْ جَدَّتِهِ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : " إِنِّي وُلِدَ لِي غُلامٌ ، فَسَمَّيْتُهُ مُحَمَّدًا ، وَكَنَّيْتُهُ أَبَا الْقَاسِمِ ، فَذُكِرَ لِي أَنَّكَ تَكْرَهُ ذَلِكَ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا الَّذِي أَحَلَّ اسْمِي وَحَرَّمَ كُنْيَتِي ، وَمَا الَّذِي حَرَّمَ كُنْيَتِي وَأَحَلَّ اسْمِي "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ صَفِيَّةَ ، إِلا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ ، وَلا يُرْوَى عَنْ عَائِشَةَ ، إِلا بِهَذَا الإِسْنَادِ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: میرے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا، میں نے اس کا نام محمد رکھ دیا ہے اور اس کی کنیت ابوالقاسم رکھ دی، پھر مجھے معلوم ہوا کہ آپ اس بات کو ناپسند سمجھتے ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے نام کو حلال اور کنیت کو حرام کس نے کیا ہے؟“ یا فرمایا: ”کس نے میری کنیت کو حرام اور میرے نام کو حلال کیا ہے؟“