کتب حدیثمعجم صغير للطبرانيابوابباب: ہجرت کے بعد مہاجرین کے حالات کا بیان
حدیث نمبر: 468
حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ حَاتِمٍ أَبُو حَاتِمٍ الْبَغْدَادِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زُنْبُورٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ الْفِهْرِيُّ ، قَالَ : قَالَ الْمِقْدَادُ بْنُ الأَسْوَدِ : "لَمَّا هَاجَرْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ قَسَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةً عَشَرَةً ، فَكُنْتُ فِي الْعَشَرَةِ الَّتِي كَانَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَانَتْ لَنَا شَاةٌ نَشْرَبُ لَبَنَهَا بَيْنَنَا ، فَأَبْطَأَ عَلَيْنَا لَيْلَةً ، وَقَدْ رَفَعْنَا لَهُ نَصِيبَهُ ، فَقُمْتُ إِلَيْهِ وَأَنَا جَائِعٌ فَشَرِبْتُهُ ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَمْ أَنَمْ بَعْدُ فَأَتَى الإِنَاءَ الَّذِي كُنَّا نَضَعُ فِيهِ اللَّبَنَ ، فَلَمْ يَجِدْ فِيهِ شَيْئًا ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلا أَذْبَحُهَا ؟ ، فَقَالَ : لا "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، إِلا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ ، تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ زُنْبُورٍ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا مقداد بن الاسود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب ہم ہجرت کر کے مدینہ چلے گئے تو ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس دس میں تقسیم کر دیا اور میں ان دس میں تھا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ تو ہماری ایک بکری تھی، ہم اس کا دودھ آپس میں پی لیتے، ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیر سے تشریف لائے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ رکھ دیا، میں اٹھا تو بھوک محسوس کی اور وہ دودھ پی لیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں سویا نہیں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس برتن کے پاس آئے جس میں ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دودھ رکھتے تھے تو وہاں کچھ نہ پایا، تو میں نے کہا: یا رسول اللہ! میں اس کو ذبح نہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“
حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الذبائح / حدیث: 468
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
حدیث تخریج «حديث صحيح ، أخرجه أحمد فى «مسنده» برقم: 24341، والطبراني فى«الكبير» برقم: 567، 569، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 3593، والطبراني فى «الصغير» برقم: 456»