حدیث نمبر: 426
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الْخَالِقِ الْبَزَّارُ الْبَصْرِيُّ الْحَافِظُ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ غَفْرَةَ الْبَجَلِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ عِرَارٍ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُلَبِّي لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ، لَبَّيْكَ لا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ ، لا شَرِيكَ لَكَ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ عِرَارٍ ، وَهِيَ إِحْدَى عَابِدَاتِ الْبَصْرَةِ ، إِلا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، وَلا عَنْ هِشَامٍ ، إِلا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، تَفَرَّدَ بِهِ عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بَصْرِيُّ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوں تلبیہ کہتے: ”﴿لَبَّيْكَ اَللّٰهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيْكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيْكَ لَكَ﴾“ ”میں حاضر ہوں اے اللہ! میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں ہے میں حاضر ہوں، بے شک تعریف اور نعمت تیرے ہی لیے ہے، اور بادشاہی میں تیرا کوئی شریک نہیں۔“
حدیث نمبر: 427
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ الْجَوْهَرِيُّ الْبَغْدَادِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ الْكَلْبِيُّ ، حَدَّثَنَا شَرْقِيُّ بْنُ الْقَطَامِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا طَلْقٍ الْعَائِذِيَّ ، يُحَدِّثُ شُرَحْبِيلَ بْنَ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَعْدِي كَرِبَ الزُّبَيْدِيِّ : لَقَدْ رَأَيْتُنَا مِنْ قَرْنٍ وَنَحْنُ إِذَا حَجَجْنَا قُلْنَا : لَبَّيْكَ تَعْظِيمًا إِلَيْكَ عُذْرًا هَذِي زُبَيْدٌ قَدْ أَتَتْكَ قَسْرًا يَقْطَعْنَ خَبْتًا وَجِبَالا وَعْرًا قَدْ جَعَلُوا الأَنْدَادَ خَلُّوا صِفْرًا وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وُقُوفًا بِبَطْنِ مُحَسِّرٍ نَخَافُ أَنْ يَتَخَطَّفَنَا الْجِنَّ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "فِعُوا عَنْ بَطْنِ عُرَنَةَ ، فَإِنَّهُمْ إِخْوَانُكُمْ إِذَا أَسْلَمُوا ، وَعَلَّمَنَا التَّلْبِيَةَ : لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ، لَبَّيْكَ لا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ ، لا شَرِيكَ لَكَ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ شَرَفِيٍّ ، إِلا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا عمرو بن معد یکرب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: قریب ہی کے زمانے سے ہم نے آپ کو دیکھا ہے، اور جب ہم حج کرتے تو کہتے تھے: ”﴿لَبَّيْكَ تَعْظِيْمًا إِلَيْكَ عُذْرًا﴾“ ”﴿هَذِيْ زُبَيْدٌ قَدْ أَتَتْكَ قَسْرًا﴾“ ”﴿يَقْطَعْنَ خَبْتًا وَجِبَالًا وَعَرًا﴾“ ”﴿قَدْ جَعَلُوا الْأَنْدَادَ خَلُّوا صِفْرًا﴾“ ”ہم تعظیم سے حاضر ہیں اور تیری طرف معذرت کرتے ہیں، یہ زبید ہے اور تیری طرف غلبے سے آتی ہے۔ یہ طے کرتی ہے پست زمینیں اور سخت پہاڑ بھی۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو دیکھا کہ ہم بطن محسر میں کھڑے ہیں اور ڈر رہے ہیں کہ جن ہمیں اچک کر لے نہ جائیں۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم بطن عرنہ سے ہٹ جاؤ کیونکہ یہاں تمہارے بھائی ہیں، جبکہ وہ مسلمان ہو جائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو یہ تلبیہ سکھایا: ﴿لَبَّيْكَ اَللّٰهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيْكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيْكَ لَكَ﴾“۔