کتب حدیث ›
معجم صغير للطبراني › ابواب
› باب: اپنے مال و اولاد کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 409
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ الْفِرْيَابِيُّ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَزِيرِ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ السَّفَرِ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ يُونُسَ الْكِنَانِيُّ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : نَشَدَ اللَّهُ عَبْدَيْنِ مِنْ عِبَادِهِ أَكْثَرَ لَهُمَا مِنَ الْمَالِ وَالْوَلَدِ ، فَقَالَ لأَحَدِهِمَا : أَيْ فُلانُ ، فَقَالَ : لَبَّيْكَ رَبِّ وَسَعْدَيْكَ ، قَالَ : أَلَمْ أُكْثِرْ لَكَ مِنَ الْمَالِ وَالْوَلَدِ ؟ ، قَالَ : بَلَى أَيْ رَبِّ ، قَالَ : فَكَيْفَ صَنَعْتَ فِيمَا آتَيْتُكَ ؟ ، قَالَ : تَرَكْتُهُ لِوَلَدِي مَخَافَةَ الْعَيْلَةِ عَلَيْهِمْ ، قَالَ : أَمَا إِنَّكَ لَوْ تَعْلَمَ الْعِلْمَ لَضَحِكْتَ قَلِيلا وَلَبَكَيْتَ كَثِيرًا ، أَمَا إِنَّ الَّذِي تَخَوَّفْتَ عَلَيْهِمْ قَدْ أَنْزَلْتُهُ بِهِمْ ، وَيَقُولُ لِلآخَرِ : أَيْ فُلانُ بْنَ فُلانٍ ، فَيَقُولُ : لَبَّيْكَ أَيْ رَبِّ وَسَعْدَيْكَ ، قَالَ : أَلَمْ أُكْثِرْ لَكَ مِنَ الْمَالِ وَالْوَلَدِ ؟ قَالَ : بَلَى أَيْ رَبِّ ، قَالَ : فَكَيْفَ صَنَعْتَ فِيمَا آتَيْتُكَ ؟ ، قَالَ : أَنْفَقْتُهُ فِي طَاعَتِكَ ، وَوَثَّقْتُ لِوَلَدِي مِنْ بَعْدِي بِحُسْنِ عَدْلِكَ ، فَقَالَ : أَمَا إِنَّكَ لَوْ تَعْلَمَ الْعِلْمَ لَضَحِكْتَ كَثِيرًا وَلَبَكَيْتَ قَلِيلا ، أَمَا إِنَّ الَّذِي وَثَّقْتَ لَهُمْ قَدْ أَنْزَلْتُهُ بِهِمْ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الأَعْمَشِ ، إِلا الْمُفَضَّلُ ، وَلا عَنِ الْمُفَضَّلِ ، إِلا الأَوْزَاعِيُّ ، وَلا عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، إِلا يُوسُفُ ، تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدٌ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو آدمی جنہیں اللہ نے بہت مال اور اولاد عطا فرمائی ہو گی تو ان سے قیامت کو کہا جائے گا: ”اے فلاں شخص!“ وہ کہے گا: اے اللہ! میں حاضر ہوں، اور نیک بختی تیرے پاس ہے۔ اللہ فرمائے گا: ”کیا میں نے تجھے بہت زیادہ مال و اولاد نہیں دی تھی؟“ وہ کہے گا: کیوں نہیں، اے میرے رب! وہ فرمائے گا: ”پھر تم نے اس کے شکر میں کیا کیا؟“ وہ کہے گا: یا اللہ! میں نے وہ مال اولاد کے لیے چھوڑ دیا تاکہ وہ تنگ دست نہ ہو جائیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”خبردار! اگر تجھے علم ہوتا تو تو بہت کم ہنستا اور بہت زیادہ روتا۔ خبردار! تو جس چیز سے ان کے متعلق ڈر رہا تھا، میں نے وہی چیز ان پر بھیج دی ہے۔“ پھر اللہ تعالیٰ دوسرے شخص سے پوچھے گا اور اسے فرمائے گا: ”اے فلاں شخص!“ وہ بھی کہے گا: اے رب! میں حاضر ہوں اور نیک بختی تیرے پاس ہے۔ اللہ تعالیٰ پوچھے گا: ”کیا میں نے تجھے مال و اولاد بکثرت نہیں دی تھی؟“ وہ کہے گا: کیوں نہیں، اے میرے رب! اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”تو نے اس میں کیا کیا؟“ وہ کہے گا: یا اللہ! میں نے اس کو تیری راہ میں اور فرمانبرداری میں خرچ کر دیا، اور تیرے انصاف پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں چھوڑ دیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”اگر تو جان لیتا تو بہت زیادہ ہنستا اور بہت کم روتا، تو نے جس چیز پر اعتماد کیا ہم نے وہ تمہیں دے دی ہے۔“