حدیث نمبر: 394
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْمُبَرِّدُ النَّحْوِيُّ أَبُو الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ يَحْيَى أَبُو الْخَطَّابِ ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ أَبُو عَتَّابٍ الدَّلالُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ أَيُّوبَ الْبَجَلِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : "مَا مِنْ عَبْدٍ يُصْبِحُ صَائِمًا إِلا فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ ، وَسَبَّحَتْ لَهُ أَعْضَاؤُهُ ، وَاسْتَغْفَرَ لَهُ أَهْلُ السَّمَاءِ الدُّنْيَا إِلَى أَنْ تُوَارَى بِالْحِجَابِ ، فَإِنْ صَلَّى رَكْعَةً أَوْ رَكْعَتَيْنِ تَطَوُّعًا أَضَاءَتْ لَهُ السَّمَاءُ نُورًا ، وَقُلْنَ أَزْوَاجُهُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ : اللَّهُمَّ ، اقْبِضْهُ إِلَيْنَا فَقَدِ اشْتَقْنَا إِلَى رُؤْيَتِهِ ، فَإِنْ هُوَ هَلَّلَ أَوْ سَبَّحَ أَوْ كَبَّرَ تَلَقَّتْهُ مَلائِكَةٌ يَكْتُبُونَهَا إِلَى أَنْ تُوَارَى بِالْحِجَابِ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، إِلا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، وَلا عَنْهُ إِلا جَرِيرُ بْنُ أَيُّوبَ ، تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو عَتَّابٍ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص روزے کی حالت میں صبح کرتا ہے تو اس کے لیے آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں، اور اس کے اعضاء تسبیحیں کہنے لگتے ہیں، اور اس کے لیے آسمان دنیا والے بخشش مانگنے لگتے ہیں، یہاں تک کہ سورج غروب ہونے لگتا ہے، پھر اگر اس نے ایک یا دو رکعت نفل نماز ادا کی تو اس کے لیے آسمان روشن ہو جاتے ہیں، اور حور عین میں سے اس کی بیویاں کہتی ہیں: اے اللہ! اس کو قبض کر کے ہمارے پاس لے آ، کیونکہ ہم اسے دیکھنے کی شوق مند ہیں۔ اگر وہ ﴿لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، سَبْحَانَ اللّٰهِ﴾ اور ﴿اللّٰهُ أَكْبَر﴾ کہتا ہے تو فرشتے ان کلمات کو اٹھا لیتے ہیں اور شام تک لکھتے رہتے ہیں۔“