کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: مسلمان کی پیٹھ محفوظ ہے ہاں جب کوئی حد کا کام کرے تو اس کی پیٹھ پر مار لگا سکتے ہیں۔
حدیث نمبر: 6785
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، سَمِعْتُ أَبِي ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ : " أَلَا أَيُّ شَهْرٍ تَعْلَمُونَهُ أَعْظَمُ حُرْمَةً ؟ قَالُوا : أَلَا شَهْرُنَا هَذَا ، قَالَ : أَلَا أَيُّ بَلَدٍ تَعْلَمُونَهُ أَعْظَمُ حُرْمَةً ؟ قَالُوا : أَلَا بَلَدُنَا هَذَا ، قَالَ : أَلَا أَيُّ يَوْمٍ تَعْلَمُونَهُ أَعْظَمُ حُرْمَةً ؟ قَالُوا : أَلَا يَوْمُنَا هَذَا ، قَالَ : فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَدْ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ دِمَاءَكُمْ ، وَأَمْوَالَكُمْ ، وَأَعْرَاضَكُمْ ، إِلَّا بِحَقِّهَا ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا ، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا ، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا ، أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ ، ثَلَاثًا ، كُلُّ ذَلِكَ يُجِيبُونَهُ ، أَلَا نَعَمْ ، قَالَ : وَيْحَكُمْ أَوْ وَيْلَكُمْ لَا تَرْجِعُنَّ بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ " .
مولانا داود راز
´مجھ سے محمد بن عبداللہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے عاصم بن علی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم عاصم بن محمد نے بیان کیا ، ان سے واقد بن محمد نے بیان کیا ، انہوں نے اپنے والد سے سنا کہ` عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا ” ہاں تم لوگ کس چیز کو سب سے زیادہ حرمت والی سمجھتے ہو ؟ “ لوگوں نے کہا کہ اپنے اسی مہینہ کو ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ہاں ، کس شہر کو تم سب سے زیادہ حرمت والا سمجھتے ہو ؟ “ لوگوں نے جواب دیا کہ اپنے اسی شہر کو ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ” ہاں ، کس دن کو تم سب سے زیادہ حرمت والا خیال کرتے ہو ؟ “ لوگوں نے کہا کہ اپنے اسی دن کو ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اب فرمایا ” پھر بلاشبہ اللہ نے تمہارے خون ، تمہارے مال اور تمہاری عزتوں کو حرمت والا قرار دیا ہے ، سوا اس کے حق کے ، جیسا کہ اس دن کی حرمت اس شہر اور اس مہینہ میں ہے ۔ ہاں ! کیا میں نے تمہیں پہنچا دیا ۔ “ تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور ہر مرتبہ صحابہ نے جواب دیا کہ جی ہاں ، پہنچا دیا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” افسوس میرے بعد تم کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو ۔“
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الحدود / حدیث: 6785
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة